حدیث نمبر: 4598
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! کُلُّ أَهْلِکَ قَدْ دَخَلَ الْبَيْتَ غَيْرِيْ؟ فَقَالَ : ((أَرْسِلِي إِلٰي شَيْبَةَ فَيَفْتَحَ لَکِ الْبَابَ)) فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَقَالَ شَيْبَةُ : مَا اسْتَطَعْنَا فَتْحَهُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَ لا إِسْلاَمٍ بِلَيْلٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : ((صَلِّي فِي الْحِجْرِ ، فَإِنَّ قَوْمَکَ اسْتَقْصَرُوا عَنْ بِنَائِ الْبَيْتِ حِيْنَ بَنَوْهُ (وفي لفظ) صَلِّي فِي الحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی ساری بیویاں بیت اللہ میں داخل ہوئی ہیں (اور میں داخل نہیں ہوئی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شیبہ کی طرف پیغام بھیجو کہ وہ تمہارے لیے دروازہ کھول دے۔ پس انھوں نے پیغام تو بھیجا لیکن شیبہ نے کہا: ہمیں نہ دورِ جاہلیت میں اتنی طاقت تھی اور اب نہ اسلام میں ہے کہ ہم اس کو رات کو کھول سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تو پھر حِجْر میں ہی نماز پڑھ لو، کیونکہ جب تیری قوم نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے (اخراجات کی کمی کی وجہ سے) اس کو کم کر دیا تھا۔ ایک روایت میں ہے: تم حجر میں ہی نماز ادا کر لو، یہ بھی بیت اللہ کا ہی ایک حصہ ہے۔

وضاحت:
فوائد: … جب قریشیوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو وہ بیت اللہ کی شمالی جانب قواعد ِ ابراہیم کا لحاظ نہ کر سکے اور ایک
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4598
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه دون قوله صلي في الحجر فان قومك استقصروا عن بناء البيت حين بنوه۔ فھو حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط : 7094 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27978»