الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي دُخُولِ الْكَعْبَةِ وَاخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ فِي الصَّلَاةِ فِيهَا باب: کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! کُلُّ أَهْلِکَ قَدْ دَخَلَ الْبَيْتَ غَيْرِيْ؟ فَقَالَ : ((أَرْسِلِي إِلٰي شَيْبَةَ فَيَفْتَحَ لَکِ الْبَابَ)) فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَقَالَ شَيْبَةُ : مَا اسْتَطَعْنَا فَتْحَهُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَ لا إِسْلاَمٍ بِلَيْلٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : ((صَلِّي فِي الْحِجْرِ ، فَإِنَّ قَوْمَکَ اسْتَقْصَرُوا عَنْ بِنَائِ الْبَيْتِ حِيْنَ بَنَوْهُ (وفي لفظ) صَلِّي فِي الحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ))۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی ساری بیویاں بیت اللہ میں داخل ہوئی ہیں (اور میں داخل نہیں ہوئی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شیبہ کی طرف پیغام بھیجو کہ وہ تمہارے لیے دروازہ کھول دے۔ پس انھوں نے پیغام تو بھیجا لیکن شیبہ نے کہا: ہمیں نہ دورِ جاہلیت میں اتنی طاقت تھی اور اب نہ اسلام میں ہے کہ ہم اس کو رات کو کھول سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تو پھر حِجْر میں ہی نماز پڑھ لو، کیونکہ جب تیری قوم نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے (اخراجات کی کمی کی وجہ سے) اس کو کم کر دیا تھا۔ ایک روایت میں ہے: تم حجر میں ہی نماز ادا کر لو، یہ بھی بیت اللہ کا ہی ایک حصہ ہے۔