حدیث نمبر: 4552
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟)) قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ قَالَ: ((أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟)) قَالُوا: بَلَدٌ حَرَامٌ قَالَ: ((فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟)) قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ قَالَ: ((إِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا)) ثُمَّ أَعَادَهَا مِرَارًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: ((اَللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟)) مِرَارًا قَالَ: يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللَّهِ إِنَّهَا لَوَصِيَّةٌ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَالَ: ((أَلَا فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: لوگو! یہ کونسا دن ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا دن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کونسا شہر ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے مال، تمہارے خون اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے اس شہر میں اور اس مہینے میں آج کے دن کی حرمت ہے۔ آپ نے یہ الفاظ متعدد مرتبہ دہرائے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھاکر متعدد بار فرمایا: کیا میں نے لوگوں تک پیغام پہنچادیا ہے؟ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کے حق میں اللہ تعالی کو وصیت تھی۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار ! جو لوگ اس وقت موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچادیں، جو یہاں موجود نہیں ہیں، لوگو! تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایتیہ وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ ہم مسلمان کے جان و مال اور عزت و حرمت کاکم از کم اس قدر پاس و لحاظ رکھیں کہ وہ ہماری کسی کاروائی کی وجہ سے متاثر نہ ہوں، کتنے خوبصورت اور واشگاف انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مختلف سوالات کر کے تمہید باندھی اور پھر بار بار مسلمان کے خون، مال اور عزت کی حرمت کی وضاحت فرمائی۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مال اور عزت کا قطعی طور پر کوئی خیال نہیں رکھا جاتا، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے عام مسلمان قتل کے جرم سے محفوظ رہتے ہیں، اگرچہ قتل و غارت گری بھی عام ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کے حق میں صحیح بخاری: (۱۷۳۹) میں عربی الفاظ یہ ہیں انہا لوصیتہ، الی امتہ کہ یہ (کہ موجود لوگ غیر موجود لوگوںتک میری باتیں پہنچائیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے لئے
وصیت تھی۔(عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4552
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1739، 7079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2036»