الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى باب: یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: ((أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟)) فَقَالُوا: يَوْمُنَا هَذَا قَالَ: ((فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟)) قَالُوا: شَهْرُنَا هَذَا قَالَ: ((أَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟)) قَالُوا: بَلَدُنَا هَذَا قَالَ: ((فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا هَلْ بَلَّغْتُ؟)) قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: ((اَللَّهُمَّ اشْهَدْ))۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دس ذوالحجہ کو خطبہ دیا اور فرمایا: کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والاہے؟ صحابہ نے کہا: آج کا یعنی دس ذوالحجہ کا دن۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس مہینہ کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ ذوالحجہ کا مہینہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون سا شہر سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟ انھوں نے کہا: ہمارا یہ شہریعنی مکہ مکرمہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور مال ایک دوسرے پر اس طرح حرام ہیں، جیسے تمہارے اس شہر اور اس مہینے میں اس دن کی حرمت ہے، کیا میں نے تم لوگوں تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دیا؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔