حدیث نمبر: 4550
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ وَجَلَسَ لِلنَّاسِ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: ((لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ)) حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ قَالَ: ((لَا حَرَجَ)) ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: ((لَا حَرَجَ)) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَرَفَةُ مَوْقِفٌ وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَمِنَى كُلُّهَا مَنْحَرٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانیوں سے فارغ ہو کر لوگوں کے لیے بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی بھی امر کی تقدیم وتاخیرکے بارے میں جو سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے، کوئی حرج نہیں ہے۔‘ یہاں تک کہ ایک آدمی نے آکر کہا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوالیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ بعد ازاں ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: میں نے رمی سے پہلے سر منڈوالیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارا عرفہ وقوف کی جگہ ہے، سارا مزدلفہ جائے وقوف ہے اور سارا منیٰ قربان گاہ ہے اور مکہ کی تمام گلیاں راستے اور قربان گاہیں ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … دس ذوالحجہ کو مزدلفہ سے واپس آ کر کل چار امور سرانجام دیئے جاتے ہیں، ان کی مسنون ترتیبیہ ہے: ۱۔ جمرۂـ عقبہ کی رمی ۲۔ہدی ذبح یا نحر کرنا ۳۔ حجامت بنوانا، تحلیق کی جائے یا تقصیر ۴۔ طوافِ افاضہ
جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اگر یہ افعال اس ترتیب کے ساتھ سرانجام نہ دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے، اگرچہ کوئی جان بوجھ کر ایسا کر رہا ہو یا بھول کر یا جہالت کی وجہ سے۔ درج بالا احادیث سے اسی رائے کی تائید ہوتی ہے۔
مسنون ترتیب کی بہرحال اہمیت ہے، اس لیے قصداً تو اس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے، ہاں بھولنے یا بے علمی کی وجہ سے ترتیب بدل جائے تو الگ بات ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4550
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرج القطعة الاولي منه ابن ماجه: 305، والقطعة الثانية منه ابوداود: 1937، وھذه القطعة الثانية مذكوره في حديث طويل، أخرجه مسلم: 1218 عن جابر رضي الله عنه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14498 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14552»