الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّكُوبِ لِرَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ وَالْمَشْيِ لِغَيْرِهَا باب: جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4512
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ عَلَى دَابَّتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ وَكَانَ لَا يَأْتِي سَائِرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَأْتِيهَا إِلَّا مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر آتے تھے اور باقی دنوں میں پیدل آتے جاتے تھے، ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پیدل آتے جاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ نحر والے دن رمی کرنے کے لیے سوار ہو کر جایا جائے اور باقی دنوں میں پیدل۔