حدیث نمبر: 4511
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أُمِّي أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَخَلْفَهُ إِنْسَانٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ أَنْ يُصِيبُوهُ بِالْحِجَارَةِ وَهُوَ يَقُولُ: ((أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَإِذَا رَمَيْتُمْ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ)) الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سلیمان بن عمرو بن الاحوص ازدی کہتے ہیں: میری ماں نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی کے درمیان سے جمرۂ عقبہ کی رمی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ایک انسان تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کی کنکریوں سے بچا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: لوگو! کوئی کسی کو قتل نہ کر دے اور جب تم رمی کرو تو (چنے یا لوبیے کے دانے کے برابر) کنکری مارو۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی ایسا نہ ہو کہ ہجوم کی وجہ سے یا بڑے پتھر پھینکنے کی وجہ سے کوئی مسلمان قتل ہو جائے۔ ان احادیث میں رمی کی کیفیت کا بیان ہے، آج کل آسانی کے ساتھ اس کو اختیار کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی کو تکلیف نہیں ہو نی چاہیے، بہرحال ہر طرف سے رمی کرنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4511
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 3028، 3031 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27672»