الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَكَيْفِيَّةِ الرَّمْيِ وَمَا يُقَالُ عِنْدَهُ باب: وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 4510
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: رَمَى عَبْدُ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعٍ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا فَقَالَ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وادی کے درمیان کھڑے ہوکر جمرۂ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں، وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے، کسی نے ان سے کہا: لوگ تو اوپر والی جگہ کی طرف سے رمی کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! یہ اس ہستی کا مقام ہے، جس پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی۔