الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ وَقْتِ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى مُزْدَلِفَةَ وَالنُّزُولِ بَيْنَ عَرَفَةَ وَجَمْعٍ باب: عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، قَالَ: فَلَمَّا وَقَعَتِ الشَّمْسُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَةَ النَّاسِ خَلْفَهُ قَالَ: ((رُوَيْدًا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ)) قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَحَمَ عَلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَقَ وَإِذَا وَجَدَ فُرْجَةً نَصَّ (وَفِي لَفْظٍ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ حَتَّى مَرَّ بِالشِّعْبِ الَّذِي يَزْعُمُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ أَنَّهُ صَلَّى فِيهِ) (وَفِي لَفْظٍ: فَأَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُ الْأُمَرَاءُ وَالْخُلَفَاءُ) فَنَزَلَ بِهِ فَبَالَ مَا يَقُولُ أَهْرَاقَ الْمَاءَ كَمَا يَقُولُونَهُ ثُمَّ جِئْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: فَقَالَ: ((الصَّلَاةُ أَمَامَكَ)) قَالَ: فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا صَلَّى حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَنَزَلَ بِهَا فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں عرفہ کے دن پچھلے پہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سواری پر سوار تھا، جب سورج غروب ہو اتو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کا رش دیکھا اور شور سنا تو فرمایا: لوگو! آرام سے چلو، سکون کو لازم پکڑو، تیز چلنا اور مشقت اٹھانا کوئی نیکی نہیں۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب لوگوں کا ہجوم ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آہستہ چلتے اور جب راستہ خالی ہوتا تو ذرا تیز چلتے، ( عَنَق کی بہ نسبت نَصّ میں زیادہ تیزی ہوتی ہے،) یہاں تک کہ جب آپ اس گھاٹی سے گزرے جس کے متعلق اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں نماز اداکی تھی، دوسری روایت میں ہے: جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جہاں امرا ء اور خلفاء اترتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اتر کر پیشاب کیا، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پانی کا برتن لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر ادا کریں گے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت نماز نہ پڑھی،یہا ں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ جاکر اترے اور آپ نے وہاں مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔