حدیث نمبر: 4456
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمْ عَشِيَّةَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنْيَخُ فِيهِ النَّاسُ لِلْمَغْرِبِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ بَالَ مَاءً وَمَا قَالَ أَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءً لَيْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ قَالَ: ((الصَّلَاةُ أَمَامَكَ)) قَالَ: فَرَكِبَ حَتَّى قَدِمَ الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ قَالَ: فَقُلْتُ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ کریب نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ جس شام یعنی عرفہ کے دن شام کو جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سوار تھے تو تم نے کیا کیا تھا؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس گھاٹی پر پہنچے جہاں لوگ اتر کر مغرب کی نماز کے لئے ٹھہرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہا ں اپنی اونٹنی کو بٹھا کر پیشاب کیا ، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، ا اس کے بعد وضو کا پانی منگواکر مختصر سا وضو کیا۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر پڑھیں گے۔ اس کے بعد آپ سوار ہوکر روانہ ہوئے اور مزدلفہ جاپہنچے۔ آپ نے وہاں مغرب کی نماز ادا کی، بعد ازاں لوگوں نے اپنی اپنی جگہ اونٹوں کو بٹھایا، لیکن ابھی تک انہوں نے سواریوں سے سامان نہیں کھولے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز کھڑی کر دی،یہ نماز ادا کر کے لوگوں نے سواریوں سے سامان اتارے، کریب نے پوچھا: آپ لوگوں نے صبح کیا کچھ کیا تھا؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اس مرحلے میں آپ کے ساتھ سوار ہوئے تھے اور میں پہلے جانے والے قریشیوں کے ساتھ پیدل چلا گیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری میں اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے: ((فَجَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ ثُمَّ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلّٰی الْمَغْرِبَ ثُمَّ اَنَاخَ کُلُّ اِنْسَانٍ بَعِیْرَہٗ مَنْزِلَہٗثُمَّاُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلّٰی وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَھُمَا)) … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور اچھی طرح وضو کیا، پھر نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ مغرب ادا کی، پھر ہر آدمی نے اپنی جگہ پر اپنا اونٹ بٹھایا، اتنے میں پھر اقامت کہہ دی گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشا کی نماز پڑھی اور ان دو نمازوں کے درمیان کوئی (نفلی) نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4456
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه تاما ومقطعا البخاري: 1543، 1544، 1669، 1686، ومسلم: 1280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22085»