الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْبِرِّ بِالسَّائِلِ وَتَحْسِينِ الظَّنِّ بِهِ وَإِعْطَائِهِ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ باب: سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3547
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ حَدَّثَتْهُ جَدَّتُهُ، وَهِيَ أُمُّ بُجَيْدٍ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ: وَاللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي، فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدہ ام بُجَیْد رضی اللہ عنہا ، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اللہ کی قسم! مسکین میرے دروازے پرآ کر کھڑا ہو جاتا ہے، لیکن اس کو دینے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اسے دینے کے لئے تمہارے پاس جلائے ہوئے کھر کے سوا کچھ بھی نہ ہو تو وہی اس کے ہاتھ میں تھما دیا کرو۔