الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْبِرِّ بِالسَّائِلِ وَتَحْسِينِ الظَّنِّ بِهِ وَإِعْطَائِهِ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ باب: سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3548
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: إِنَّ سَائِلًا وَقَفَ عَلَى بَابِهِمْ فَقَالَتْ لَهُ جَدَّتُهُ حَوَّاءُ: أَطْعِمُوهُ تَمْرًا، قَالُوا: لَيْسَ عِنْدَنَا، قَالَتْ: فَاسْقُوهُ سَوِيقًا، قَالُوا: الْعَجَبُ لَكِ نَسْتَطِيعُ أَنْ نُطْعِمَهُ مَا لَيْسَ عِنْدَنَا؟ قَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا تَرُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک سائل ان کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا، ان کی دادی سیدہ حواء رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا:اس کو کھجور دے دو، گھر والوں نے کہا: ہمارے پاس کھجوریں نہیں ہیں، اس نے پھر کہا: تو پھر اسے ستو پلا دو، اہل خانہ نے کہا: تجھ پر بھی تعجب ہے، جو چیز ہمارے پاس نہیں ہے، ہم اسے کیسے دیں؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کسی سائل کو (خالی ہاتھ) واپس نہ لوٹنے دو،اگرچہ جو چیز اسے دی جائے، وہ جلایا ہوا کھر ہی ہو۔