حدیث نمبر: 3501
عَنْ سِمَاكِ (بْنِ حَرْبٍ) قَالَ: سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ هُلْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الصَّدَقَةَ فَقَالَ: ((لَا يَجِيءَنَّ أَحَدُكُمْ بِشَاةٍ لَهَا يُعَارٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ہلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی قیامت کے دن اس حالت میں نہ آئے کہ ممیاتی ہوئی بکری بھی اس کے ساتھ ہو۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خیانت کتنا بڑا جرم ہے، اس بارے میں خلاصہ یہ ہے کسی سرکارییا غیر سرکاری ملازمت کے تعین کے وقت جو شروط و قیود طے ہو جائیں، ان کا پاس و لحاظ کرنا انتہائی ضروری ہے، نیز درج ذیل حدیث سے معلوم ہوا کہ جو بطورِ عامل اور ساعی صدقہ و زکوۃ وصول کرنے کے لیے جاتے ہیں، اس سفر میں جو چیز ان کو بطورِ تحفہ دی جائے گی، وہ بھی ان کے لیے جائز نہیں ہوگی: سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازد قبیلہ کے ابن لتبیہ نامی ایک آدمی کو زکوۃ کی وصولی کا عامل بنایا، جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا: یہ مال تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیاگیا ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ((مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُہٗفَیَجِیْئُ فَیَقُوْلُ: ھٰذَا لَکُمْ وَھٰذَا اُھْدِیَ لِیْ، ھَلَّا جَلَسَ فِیْ بَیْتِ اُمِّہٖاَوْاَبِیْہِ فَیَنْظُرَ اَیُھْدٰی لَہٗاَمْلَا،لَایَأْتِیْ اَحَدٌ مِنْکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ ذَالِکَ اِلَّا جَائَ بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اِنْ کَانَ بَعِیْرًا فَلَہٗرُغُائٌاَوْبَقَرَۃٌ فَلَھَا خُوَارٌ اَوْ شَاۃٌ تَیْعَرُ۔))
’’اس عامل کو کیا ہو گیا ہے، جس کو ہم بھیجتے ہیں، لیکن جب وہ واپس آتا ہے تو کہتا ہے: یہ چیز تو تمہاری ہے اور یہ چیز مجھے بطورِ تحفہ دی گئی۔ ذرا وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر میں بیٹھے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کو تحفہ ملتا ہے یا نہیں، جو آدمی اس میں سے جو چیز بھی لے گا، وہ قیامت کے روزہ اس کو اپنے ساتھ لائے گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلا رہا ہو گا، اگر وہ گائے ہوئی تو وہ ڈکار رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3501
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه الطيالسي: 1086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22329»