حدیث نمبر: 3494
عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَأَنَا مَمْلُوكٌ فَقُلْتُ: هَذِهِ صَدَقَةٌ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ: هَذِهِ هَدِيَّةٌ، أَهْدَيْتُهَا لَكَ أَكْرَمَكَ اللَّهُ بِهَا فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَأَكَلَ مَعَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں غلام تھا، ایک دن میں کھانا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا: یہ صدقہ ہے، (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو (کھانے کا) حکم دیا، پس انہوں نے کھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود نہ کھایا۔ پھر ایک دن میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت دے، یہ ہدیہ ہے، جو میں آپ کیلئے لے کر آیا ہوں، کیونکہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا، پس انہوں نے بھی کھایا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔

وضاحت:
فوائد: … راجح قول کے مطابق آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مراد بنو عبد المطلب اور بنو ہاشم ہیں، اور بنو ہاشم سے مراد سیدنا علی، سیدنا عباس، سیدنا عقیل اور سیدنا حارث بن عبد المطلب کی اولاد ہے۔ مذکورہ بالا بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے غلاموں کا بھییہی حکم ہے۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث سے پتہ چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کے غلاموں کے لیے بھی صدقہ حلال نہیں ہے، حنفی مذہب میں بھییہی قول معروف ہے، البتہ ابن ملک کا قول اس کے مخالف ہے، لیکن علامہ ملا علی قاری نے (مرقاۃ المفاتیح: ۲/ ۴۴۸۔ ۴۴۹) میں اس پر ردّ کیاہے، اس کامطالعہ کر لینا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۱۳) آج بھی جن لوگوں کا نسب ان مذکورہ بالا ہستیوں سے ملتا ہے، ان کو اس معاملے انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3494
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 8، والطبراني: 6066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24123»