الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
تَحْرِيمُ الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَأَزْوَاجِهِمْ وَمَوَالِيْهِمْ ، لَا الْهَدِيَّةِ باب: بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان رضی اللہ عنہ
عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَأَنَا مَمْلُوكٌ فَقُلْتُ: هَذِهِ صَدَقَةٌ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ: هَذِهِ هَدِيَّةٌ، أَهْدَيْتُهَا لَكَ أَكْرَمَكَ اللَّهُ بِهَا فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَأَكَلَ مَعَهُمْ۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں غلام تھا، ایک دن میں کھانا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا: یہ صدقہ ہے، (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو (کھانے کا) حکم دیا، پس انہوں نے کھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود نہ کھایا۔ پھر ایک دن میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت دے، یہ ہدیہ ہے، جو میں آپ کیلئے لے کر آیا ہوں، کیونکہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا، پس انہوں نے بھی کھایا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔