الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
تَحْرِيمُ الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَأَزْوَاجِهِمْ وَمَوَالِيْهِمْ ، لَا الْهَدِيَّةِ باب: بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان رضی اللہ عنہ
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ هُوَ وَالْفَضْلُ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُزَوِّجَهُمَا وَيَسْتَعْمِلَهُمَا عَلَى الصَّدَقَةِ فَيُصِيبَانِ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَحْمِيَّةَ الزُّبَيْدِيِّ: ((زَوِّجِ الْفَضْلَ))، وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: ((زَوِّجْ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ))، وَقَالَ لِمَحْمِيَّةَ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى الْأَخْمَاسِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصْدِقُ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ شَيْئًا، لَمْ يُسَمِّهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ۔ (دوسری سند) سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی شادیاں کرا دیں اور انہیں صدقات کی وصولی پر مامور کر دیں تاکہ وہ اس طرح کچھ مالی منفعت حاصل کر سکیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ صدقات تو لوگوں کی میل کچیل ہوتے ہیں اور یہ محمد اور آلِ محمد لئے حلال نہیں ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا محمیہ زبیدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: فضل کی شادی کرا دو۔ اور سیدنا نوفل بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم عبد المطلب بن ربیعہ کی شادی کرا دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محمیہ زبیدی کو خُمُس کی وصولی پر مامور کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ان دونوں کا مہر خُمُس میں سے ادا کر دو۔ عبد اللہ بن حارث نے اس کی مقدار کا تعین نہیں کیا۔