الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
تَحْرِيمُ الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَأَزْوَاجِهِمْ وَمَوَالِيْهِمْ ، لَا الْهَدِيَّةِ باب: بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 3486
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ) فَأَكَلَهَا فَلَمْ يَنَمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ بَعْضُ نِسَائِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرِقْتَ الْبَارِحَةَ، قَالَ: ((إِنِّي وَجَدْتُّ تَحْتَ جَنْبِي تَمْرَةً فَأَكَلْتُهَا وَكَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجور تو کھا لی، مگر ساری رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیند نہیں آئی،کسی اہلیہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ تھی کہ گزشتہ رات آپ پر بے خوابی طاری رہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی تھی، میں نے وہ کھا لی، ہمارے ہاں صدقہ کی کھجوریں بھی پڑی تھیں، اب مجھے اندیشہ یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کھجور ان صدقہ والی کھجوروں میں سے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو شبہ ہوا تھا، یہ محض شبہ نہیں تھا، بلکہ اس کے مختلف قرائن ہوں گے، ممکن ہے کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں صدقے کی کھجوریں لائی گئی ہوں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو تقسیم کر دیں، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شبہ ہو گیا ہو، بہرحال ایسی صورتحال میں شبہ میں پڑ جانے کی گنجائش موجود ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب سمجھنے والوں کو اس جگہ غور کرنا چاہیے، اگر آپ غیب جانتے تھے اور کھجور واقعۃ صدقے کی تھی تو یہ کھائی کیوں اور اگر صدقے کی نہیں تھی تو ساری رات بے خوابی اور بے قراری میں کیوں گزاری؟ (عبداللہ رفیق)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب سمجھنے والوں کو اس جگہ غور کرنا چاہیے، اگر آپ غیب جانتے تھے اور کھجور واقعۃ صدقے کی تھی تو یہ کھائی کیوں اور اگر صدقے کی نہیں تھی تو ساری رات بے خوابی اور بے قراری میں کیوں گزاری؟ (عبداللہ رفیق)