الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
تَحْرِيمُ الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَأَزْوَاجِهِمْ وَمَوَالِيْهِمْ ، لَا الْهَدِيَّةِ باب: بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان رضی اللہ عنہ
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ نَائِمًا فَوَجَدَ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِهِ فَأَخَذَهَا فَأَكَلَهَا، ثُمَّ جَعَلَ يَتَضَوَّرُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَفَزِعَ لِذَلِكَ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ، فَقَالَ: ((إِنِّي وَجَدْتُّ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِي فَأَكَلْتُهَا فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ))۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اٹھا کر کھا لیا، لیکن بعد ازاں رات کے آخری پہر کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشانی کی وجہ سے الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیویاں بھی گھبرا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی اور میں نے اسے کھا لیا، اب مجھے اندیشہ یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ صدقہ کی کھجور ہو۔