حدیث نمبر: 3480
عَنْ أَبِي الْحَوْرَائِ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلْتُهَا فِي فِيِّ، قَالَ: فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلُعَابِهَا، فَجَعَلَهَا فِي التَّمْرِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ لِهَذَا الصَّبِيِّ؟ قَالَ: ((وَإِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ))، قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ: ((دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طَمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ))، قَالَ: وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ: ((اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ))، قَالَ شُعْبَةُ وَأَظُنُّهُ قَدْ قَالَ هَذِهِ أَيْضًا: ((تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو حوراء کہتے ہیں: میں نے سیدناحسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کونسی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دفعہ صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈالی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ لعاب سمیت میرے منہ سے کھنیچ کر نکالی اور کھجور کے ڈھیر میں واپس ڈال دی۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کا ایک کھجور لے لینا، اس سے آپ کو کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم آلِ محمدہیں اور ہمارے لئے زکوۃ حلال نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے: شک والی بات کو چھوڑ کر ایسی صورت کو اختیار کرو جو شک و شبہ سے پاک ہو، سچائی میں سکون ہے اورجھوٹ میں قلق اور اضطراب ہے، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس دعا کی تعلیم بھی دیتے تھے: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، … تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ یعنی: اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا، اے ہمار ے ربّ! تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3480
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرج الترمذي منه لفظ: ((دع ما يريبك وان الكذب ريبة))، وأخرجه بتمامه عبد الرزاق: 4984، والطبراني: 2711 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1727»