الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ افْتِرَاضِ الزَّكَاةِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَالتَّشْدِيدِ فِي مَنْعِهَا باب: زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3377
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ هُلْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ قَالَ: ((لَا يَجِيئَنَّ أَحَدُكُمْ بِشَاةٍ لَهَا يُعَارٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ہُلب طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ پر مشتمل ایک حدیث بیان، اس میں یہ فرمایا تھا کہ: تم میں سے کوئی آدمی قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس کے ساتھ اس کی بکری ہو، جو ممیا رہی ہو۔
وضاحت:
فوائد: زکوۃ ایک اہم رکنِ اسلام اور نماز کی طرح کا فریضہ ہے، اس کی عدم ادائیگی پر کئی وعیدیں بیان کی گئی ہیں، بعض کا ذکر اس باب میں ہو چکا ہے۔ آخری حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی مالک اپنے جانوروں کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تو ایسا جانور قیامت والے دن اس کے ساتھ ہو گا اور اپنی مخصوص آواز نکال رہا ہو گا۔