الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ افْتِرَاضِ الزَّكَاةِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَالتَّشْدِيدِ فِي مَنْعِهَا باب: زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ))، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَكْرٍ، وَارْتَدَّ مَنْ ارْتَدَّ، أَرَادَ أَبُو بَكْرٍ قِتَالَهُمْ، قَالَ عُمَرُ: كَيْفَ تُقَاتِلُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ وَهُمْ يُصَلُّونَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ! لَأُقَاتِلَنَّ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الزَّكَاةِ وَاللَّهِ! لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَقَاتَلْتُهُمْ، قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ عَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لَا إِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ کا اعتراف نہ کر لیں، جب وہ اس کا اعتراف کر لیں گے تو وہ اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی اور مرتدّ ہونے والے مرتد ہو گئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کا ارادہ کیا۔ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو لوگ نماز پڑھتے ہیں، آپ ان سے کیسے قتال کریں گے؟ لیکن سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے ضرور قتال کروں گا جو زکوۃ ادا کرنے سے انکاری ہیں۔اللہ کی قسم ہے،اگر ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی فرض کی ہوئی ایک بکری بھی نہ دی تو میں ان سے لڑوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے (زکوۃ کے اِن انکاریوں سے) لڑنے کے لیے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے تو میں جان گیا کہ یہی حق ہے۔