حدیث نمبر: 2701
عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهَا خُلِقَ آدَمُ وَفِيهَا قُبِضَ، وَفِيهَا النَّفْخَةُ وَفِيهَا الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهَا فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ))، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ تُعْرَضُ عَلَيْكَ صَلَاتُنَا وَقَدْ أُرِمْتَ يَعْنِي وَقَدْ بَلِيتَ؟ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا اوس بن اوس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنوں میں افضل ترین جمعہ کا دن ہے،اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور فوت کیا گیا،اور اسی میں نَفْخَہ اورہوگا ، لہٰذا تم مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا یہ درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا، جبکہ آپ تو (مٹی میں) فنا ہو چکے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2701
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1047، 1531، والنسائي: 3/ 91، وابن ماجه: 1085، 1636 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16262»