الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ بَدْءِ الْأَذَانِ وَرُؤْيَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَسَبَبِ مَشْرُوعِيَّةِ التَّثْوِيبِ فِي الْفَجْرِ باب: اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب¤اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنِّي مُسْتَيْقِظٌ أَرَى رَجُلًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَيْهِ بُرْدَانٌ أَخْضَرَانِ نَزَلَ عَلَى جِذْمِ حَائِطٍ مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَذَّنَ مَثْنَى مَثْنَى ثُمَّ جَلَسَ، ثُمَّ أَقَامَ فَقَالَ مَثْنَى مَثْنَى، قَالَ: ((نِعْمَ مَا رَأَيْتَ، عَلِّمْهَا بِلَالًا)) قَالَ عُمَرُ: قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ ذَلِكَ وَلَكِنَّهُ سَبَقَنِيسیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک انصاری آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے، مجھے یوں لگا کہ میں جاگ رہا ہوں، ایک آدمی اپنے اوپر دو سبز چادریں لیے ہوئے مدینہ کے کسی باغ کی ایک طرف آسمان سے نازل ہوا، اس نے دو دو کلموں والی اذان کہی، پھر بیٹھ گیا ہے، پھر اس نے دو دو کلموں والی اقامت کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے بہترین چیز دیکھی ہے، یہ کلمات بلال کو سکھاَ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: یقینا میں نے بھی اس طرح کا خواب دیکھا تھا، لیکن وہ مجھ سے سبقت لے گیا ہے۔