الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ بَدْءِ الْأَذَانِ وَرُؤْيَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَسَبَبِ مَشْرُوعِيَّةِ التَّثْوِيبِ فِي الْفَجْرِ باب: اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب¤اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَزَادَ ثُمَّ أَمَرَ بِالتَّأْذِينِ فَكَانَ بِلَالٌ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ يُؤَذِّنُ بِذَلِكَ وَيَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ، فَجَاءَهُ فَدَعَاهُ ذَاتَ غَدَاةٍ إِلَى الْفَجْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ، قَالَ فَصَرَخَ بِلَالٌ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ: فَأُدْخِلَتْ هَذِهِ الْكَلِمَةُ فِي التَّأْذِينِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِسیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے ہی دوسری سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں مزید اس چیز کا ذکر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان کہنے کا حکم دے دیا۔ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ انہی کلمات کے ساتھ اذان کہا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا کرتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید کہتے ہیں: بلال رضی اللہ عنہ ایک دن صبح کے وقت فجر کی نماز کے لیے آپ کو بلانے گئے تو انہیں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے ہیں تو بلال رضی اللہ عنہ نے بآوازِ بلند کہا: الصلاۃ خیر من النوم (نماز نیند سے بہتر ہے)۔ سعید بن مسیّب کہتے ہیں: تو یہ کلمات فجر کی اذان میں داخل کر دیے گئے۔ (۱۲۶۷)