الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ قَضَاءِ مَا يَفُوتُ مِنَ الصَّلَاةِ النَّافِلَةِ وَالْأَوْرَادِ باب: فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّبْحِ وَلَمْ يَكُنْ رَكَعَ رَكْعَتَي الْفَجْرِ فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ حِينَ فَرَغَ مِنَ الصُّبْحِ فَرَكَعَ رَكْعَتَي الْفَجْرِ فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ؟)) فَأَخْبَرَهُ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًاسیدنا قیس بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ وہ نماز فجر کے لیے آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فجر کی نماز میں ہی پایا، جبکہ انھوں نے فجر کی دو سنتیں ادا نہیں کی تھیں، پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور جب نمازِ فجر سے فارغ ہوئے تو فجر کی سنتیں ادا کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی نماز ہے؟ پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور کچھ نہ کہا۔