حدیث نمبر: 12021
عَنْ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ، فَكَانَ مَا شَاءَ اللَّهُ، (وَفِي رِوَايَةٍ: يَعْفُو اللَّهُ عَمَّنْ يَشَاءُ).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

قیس خارفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا: سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے، آپ کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے امت کو نمازیں پڑھائیں، تیسرے نمبر پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے،ان کے بعد تو ہمیں فتنوں اور آزمائشوں نے آلیا، پھر وہی ہوا، جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔ ایک روایت میں ہے: اللہ جس کو چاہے گا، معاف کر دے گا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ امت مسلمہ کے پہلے دو خلفاء کی عظمت کا اعتراف کر رہے ہیں، اور اہل حق کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ جادۂ حق پر گامزن رہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12021
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن سعد: 6/ 130 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1259»