حدیث نمبر: 12022
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) بِمِثْلِهِ وَفِيهِ: ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ فَمَا شَاءَ اللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي قَوْلُهُ: ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ، أَرَادَ أَنْ يَتَوَاضَعَ بِذَلِكَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ان حضرات کے بعد ہمیں آزمائشوں نے آلیا، پھر وہی ہوا جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: میرے والد نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ان حضرات کے بعد ہمیں آزمائشوں نے آلیا۔ یہ انہوں نے ازراہ تواضع فرمایا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر کسی صحابی کا نام بطورِ خلیفہ پیش نہیں کیا، ہاں بعض احادیث سے خلفائے راشدین کی خلافت کا اشارہ ملتا ہے، جیسے حدیث نمبر (۱۲۱۵۳) والے باب میں مذکورہ احادیث ِ مبارکہ سے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ ملتا ہے۔
قَوْلُہُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اَلْاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ))
ارشادِ نبوی ائمہ قریشی ہوتے ہیں کی وضاحت
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12022
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1020»