الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي قُدُومِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ وَخُرُوجِ أَهْلِهَا بِهِ وَاسْتِقْبَالِهِمْ إِيَّاهُ جَمِيعًا رِجَالًا وَنِسَاءً ونُزُولِهِ بِدَارِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِي باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں اترنا
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ وَأَبُو بَكْرٍ رَدِيفُهُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُعْرَفُ فِي الطَّرِيقِ لِاخْتِلَافِهِ إِلَى الشَّامِ وَكَانَ يَمُرُّ بِالْقَوْمِ فَيَقُولُونَ مَنْ هَذَا بَيْنَ يَدَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ هَادٍ يَهْدِينِي فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ وَأَصْحَابِهِ فَخَرَجُوا إِلَيْهِمَا فَقَالُوا ادْخُلَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ فَدَخَلَا قَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَنْوَرَ وَلَا أَحْسَنَ مِنْ يَوْمٍ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الْمَدِينَةَ وَشَهِدْتُ وَفَاتَهُ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَظْلَمَ وَلَا أَقْبَحَ مِنَ الْيَوْمِ الَّذِي تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار تھے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے ردیف تھے، راستے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پہچان لیا جاتا تھا، کیونکہ وہ شام آتے جاتے وقت اس راستے والے لوگوں کے پاس سے گزرتے رہتے تھے، اس لیے لوگوں نے پوچھا: اے ابو بکر! یہ آپ کے آگے والا آدمی کون ہے؟ وہ کہتے: یہ میری رہنمائی کرنے والا رہبر ہے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصاری قبیلے کے مسلمان ہونے والے لوگوں کو اور ابو امامہ اور اس کے ساتھیوں کو پیغام بھیجا، وہ لوگ آ گئے اور انھوں نے کہا: آپ دونوں امن و اطمینان کے ساتھ داخل ہوں، پس وہ داخل ہوئے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، جو زیادہ نور اور حسن والا ہو، اس دن کی بہ نسبت، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے، اور چونکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے موقع پر بھی مدینہ میں موجود تھا، اس لیے میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، جو زیادہ اندھیرے اور قباحت والا ہو، اس دن سے جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تھی۔