حدیث کتب › الفتح الربانی › كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم
الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ قُدُومِ سَبْعِينَ رَجُلًا وَامْرَأَتَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ بَعْدَ العقبة الأولى بِعَام وَبَيعَةِ الْعَقيةِ الثانية باب: بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
حدیث نمبر: 10608
(مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ نَحْوُ هَذَا قَالَ وَكَانَ أَبُو مَسْعُودٍ أَصْغَرَهُمْ سِنًّاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے اور وہ ابو مسعود عمر میں سب سے چھوٹے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یثرب میں دین کی تعلیم اور تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا اور کئی لوگ مسلمان ہو گئے، ۱۳نبوتکےموسمحجمیںیثرب سے بہت سے مسلمان اور مشرکین حج کے لیے آئے، مسلمانوں نے طے کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ کے پہاڑوں میں چکر کاٹتے، ٹھوکریں کھاتے اور خوف و ہراس کے عالم میں نہیں چھوڑیں گے، چنانچہ انھوں نے درپردہ رابطہ کیا اور ایام تشریق کے درمیانے روز، رات کے وقت جمرۂ عقبہ کے پاس گھاٹی میں اجتماع منعقد کرنے پر اتفاق کیا، مقررہ دن یہ لوگ اپنی قوم کے ساتھ اپنے ڈیروں میں سو گئے اور جب رات کا پہلا تہائی گزر چکا تو چپکے چپکے ایک دو دو آدمی نکل کر عقبہ کے پاس پہنچ گئے، یہ کل تہتر آدمی تھے، باسٹھ خزرج کے اور گیارہ اوس کے، ان کے ساتھ یہ دو عورتیں بھی تھیں: سیدہ نسیبہ بنت کعب اور سیدہ اسماء بنت عمرو رضی اللہ عنہما۔ پھر اس مجلس میں جو امور طے پائے، ان کا بیان اسی باب میں کیا جا چکا ہے۔
عقبہ کی اس دوسری بیعت کے بعد عام مسلمانوں نے مدینے کے لیے ہجرت شروع کر دی، جبکہ بعض صحابہ اس سے پہلے ہی ہجرت کر چکے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی مسلمانوں کا دار الہجرت دکھلایا جا چکا تھا، جس کی علامتوں کا مصداق یثرب بن رہا تھا۔
عقبہ کی اس دوسری بیعت کے بعد عام مسلمانوں نے مدینے کے لیے ہجرت شروع کر دی، جبکہ بعض صحابہ اس سے پہلے ہی ہجرت کر چکے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی مسلمانوں کا دار الہجرت دکھلایا جا چکا تھا، جس کی علامتوں کا مصداق یثرب بن رہا تھا۔