حدیث نمبر: 10607
عَنْ عَامِرٍ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ إِلَى السَّبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَقَالَ لِيَتَكَلَّمْ مُتَكَلِّمُكُمْ وَلَا يُطِيلُ الْخُطْبَةَ فَإِنَّ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَيْنًا وَإِنْ يَعْلَمُوا بِكُمْ يَفْضَحُوكُمْ فَقَالَ قَائِلُهُمْ وَهُوَ أَبُو أُمَامَةَ سَلْ يَا مُحَمَّدُ لِرَبِّكَ مَا شِئْتَ ثُمَّ سَلْ لِنَفْسِكَ وَلِأَصْحَابِكَ مَا شِئْتَ ثُمَّ أَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَيْكُمْ إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَسْأَلُكُمْ لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي وَلِأَصْحَابِي أَنْ تُؤْوُونَا وَتَنْصُرُونَا وَتَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ قَالُوا فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ قَالَ لَكُمُ الْجَنَّةُ قَالُوا فَلَكَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ عقبہ کے پاس درخت کے نیچے ستر انصاریوں کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس بندے نے بات کرنی ہے، وہ بات کرے اور خطاب کو لمبا نہ کرے، کیونکہ مشرکوں کا جاسوس تمہاری تاڑ میں ہے اور اگر ان کو تمہاری اس کاروائی کا پتہ چل گیا تو وہ تمہیں رسوا کر دیں گے۔ پس ان کے بات کرنے والے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے محمد! اپنے ربّ کے لیے جو مطالبہ کرنا ہے کرو، اور پھر اپنے نفس اور اپنے صحابہ کے لیے جو چاہتے ہو، ہم سے سوال کرو، پھر ہمیں بتاؤ کہ اگر ہمیہ ذمہ داریاں نبھا دیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارا اجر و ثواب کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے اپنے ربّ کے لیےیہ مطالبہ کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے اور اپنے صحابہ کے لیے تم سے یہ سوال کرتا ہوںکہ تم لوگ ہمیں جگہ فراہم کرو، ہماری مدد کرو اور ان امور سے ہماری بھی حفاظت کرو، جن سے تم اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا: اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمیں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کو جنت ملے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو آپ نے مطالبہ کیا ہے، وہ پورا کیا جائے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10607
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرسل صحيح، عامر الشعبي لم يدرك النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، قال العجلي: مرسل الشعبي صحيح، لايكاديرسل الا صحيحا، أخرجه البيھقي في الدلائل : 2/ 450 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17206»