الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ قُدُومِ سَبْعِينَ رَجُلًا وَامْرَأَتَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ بَعْدَ العقبة الأولى بِعَام وَبَيعَةِ الْعَقيةِ الثانية باب: بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
عَنْ عَامِرٍ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ إِلَى السَّبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَقَالَ لِيَتَكَلَّمْ مُتَكَلِّمُكُمْ وَلَا يُطِيلُ الْخُطْبَةَ فَإِنَّ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَيْنًا وَإِنْ يَعْلَمُوا بِكُمْ يَفْضَحُوكُمْ فَقَالَ قَائِلُهُمْ وَهُوَ أَبُو أُمَامَةَ سَلْ يَا مُحَمَّدُ لِرَبِّكَ مَا شِئْتَ ثُمَّ سَلْ لِنَفْسِكَ وَلِأَصْحَابِكَ مَا شِئْتَ ثُمَّ أَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَيْكُمْ إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَسْأَلُكُمْ لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي وَلِأَصْحَابِي أَنْ تُؤْوُونَا وَتَنْصُرُونَا وَتَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ قَالُوا فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ قَالَ لَكُمُ الْجَنَّةُ قَالُوا فَلَكَ ذَلِكَ۔ سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ عقبہ کے پاس درخت کے نیچے ستر انصاریوں کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس بندے نے بات کرنی ہے، وہ بات کرے اور خطاب کو لمبا نہ کرے، کیونکہ مشرکوں کا جاسوس تمہاری تاڑ میں ہے اور اگر ان کو تمہاری اس کاروائی کا پتہ چل گیا تو وہ تمہیں رسوا کر دیں گے۔ پس ان کے بات کرنے والے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے محمد! اپنے ربّ کے لیے جو مطالبہ کرنا ہے کرو، اور پھر اپنے نفس اور اپنے صحابہ کے لیے جو چاہتے ہو، ہم سے سوال کرو، پھر ہمیں بتاؤ کہ اگر ہمیہ ذمہ داریاں نبھا دیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارا اجر و ثواب کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے اپنے ربّ کے لیےیہ مطالبہ کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے اور اپنے صحابہ کے لیے تم سے یہ سوال کرتا ہوںکہ تم لوگ ہمیں جگہ فراہم کرو، ہماری مدد کرو اور ان امور سے ہماری بھی حفاظت کرو، جن سے تم اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا: اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمیں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کو جنت ملے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو آپ نے مطالبہ کیا ہے، وہ پورا کیا جائے گا۔