حدیث نمبر: 10402
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَأَلَ اللَّهَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ ثِنْتَيْنِ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَهُ الثَّالِثَةُ فَسَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، اس نے دو چیزیں عطا کر دیں اور ہم تیسری کے بارے میں بھی امید رکھتے ہیں، انھوں نے یہ سوال کیا کہ ان کا حکم اور فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے موافق ہو، پس اس نے ان کو یہ چیز عطا کر دی، انھوں نے ایسی بادشاہت کا سوال کیا، جو ان کے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو، پس اس نے ان کو یہ چیز بھی دے دی اور انھوں نے تیسرا سوال یہ کیا کہ جو آدمی اپنے گھر سے صرف نماز ادا کرنے کے لیے نکلے اور اس مسجد میں آئے تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح صاف ہو جائے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا، پس ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ چیز بھی عطا کر دی ہو گی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10402
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3377 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6644»