الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ ذِكْرِ نَبِيُّ اللَّهِ سُلَيْمَانَ وَعِظَم مُلْكِهِ باب: اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام اور ان کی بادشاہت کے عظیم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 10403
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ فَدَعَتُّهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ)) قَالَ ((فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي قَالَ فَرَدَّهُ خَاسِئًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک شیطان نے گزشتہ رات میری نماز کو کاٹنے کے لیے مجھ پر حملہ کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت دی اور میں نے اس کو دھکا دیا، پھر میں نے چاہا کہ اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ تم سارے صبح کے وقت اس کو دیکھ سکو، لیکن پھر مجھے اپنی بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی: اے میرے ربّ! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما کہ جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو، پس اس کو ناکام و نامراد لوٹا دیا۔
وضاحت:
فوائد: … سلیمان علیہ السلام کو اپنے باپ داود علیہ السلام سے نبوت اور بادشاہت وراثت میں ملی، سلیمان علیہ السلام انفرادی خصوصیت و فضیلت کے مالک تھے، وہ پوری تاریخ انسانیت میں اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ ان کی حکمرانی صرف انسانوں پر ہی نہیں تھی، بلکہ جنات، حیوانات اور چرند پرند حتی کہ ہوا تک ان کے ماتحت تھی۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ نمل میں (۱۶ تا ۴۴) اور سورۂ ص میں (۳۰ تا ۴۰) میں بہت خوبصورت انداز میں سلیمان علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ نمل میں (۱۶ تا ۴۴) اور سورۂ ص میں (۳۰ تا ۴۰) میں بہت خوبصورت انداز میں سلیمان علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔