أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: بَلَغَنِي عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: "أَدْنَى الْحَيْضِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ"، سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ الدَّارِمِيُّ: تَأْخُذُ بِهَذَا ؟، قَالَ: "نَعَمْ، إِذَا كَانَ عَادَتَهَا"، وَسَأَلْتُهُ أَيْضًا عَنْ هَذَا ؟، قَالَ: "أَقَلُّ الْحَيْضِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَأَكْثَرُهُ خَمْسَ عَشْرَةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حیض کی کم سے کم مدت تین دن ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ کا بھی یہی قول ہے؟ فرمایا: ہاں، جب عادة ایسی ہو تو تین ہی دن مدت حیض ہے۔ سفیان نے کہا: میں نے امام دارمی رحمہ اللہ سے اس بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا: کم سے کم حیض کی مدت ایک دن ایک رات ہے اور زیاد سے زیادہ پندرہ دن۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هُوَ أَبُو سَعْدٍ الصَّغَّانِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الرَّبِيعِ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "أَدْنَى الْحَيْضِ ثَلَاثٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے کہا: کم سے کم مدت حیض تین (دن) ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "أَدْنَى الْحَيْضِ يَوْمٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: اقل حیض ایک دن ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا رَأَتْ الدَّمَ قَبْلَ حَيْضِهَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ فَهُوَ مِنْ الْحَيْضِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے کہا: حیض کے دن شروع ہونے سے ایک دو دن پہلے ہی خون آ جائے تو وہ حیض ہی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 866 سے 870)
حیض کی اقل اور اکثر مدت کے بارے میں اجتہادات اور اختلافات ہیں اور کسی حدیث سے اس کی تحدید نہیں ہوتی، اور ہر عورت کی اپنی عادة شہریہ ہوتی ہے اور عورت بذاتِ خود حیض و استحاضہ میں فرق کر سکتی ہے۔
حیض کی اقل اور اکثر مدت کے بارے میں اجتہادات اور اختلافات ہیں اور کسی حدیث سے اس کی تحدید نہیں ہوتی، اور ہر عورت کی اپنی عادة شہریہ ہوتی ہے اور عورت بذاتِ خود حیض و استحاضہ میں فرق کر سکتی ہے۔