أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "تُمْسِكُ الْمَرْأَةُ عَنْ الصَّلَاةِ فِي حَيْضِهَا سَبْعًا، فَإِنْ طَهُرَتْ، فَذَاكَ، وَإِلَّا أَمْسَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعَشْرَةَ، فَإِنْ طَهُرَتْ، فَذَاكَ، وَإِلَّا اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ، وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یونس (بن عبيد) سے مروی ہے امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: عورت اپنے حیض کے دوران سات دن تک نماز سے رکی رہے گی، پھر اگر پاکی حاصل ہو گئی تو ٹھیک ہے ورنہ حیض کے شروع ہونے سے دس دن تک نماز سے رکی رہے گی، دس دن پر پاک ہو جائے تو ٹھیک ورنہ پھر غسل کر کے نماز پڑھے گی اور وہ مستحاضہ شمار ہو گی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 854)
یعنی حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت اس قول کے مطابق دس دن ہے اور دس دن کے بعد وہ مستحاضہ شمار ہوگی اور اس کا حکم اس پر لاگو ہوگا۔
یعنی حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت اس قول کے مطابق دس دن ہے اور دس دن کے بعد وہ مستحاضہ شمار ہوگی اور اس کا حکم اس پر لاگو ہوگا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الرَّبِيعِ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْحَيْضُ عَشْرَةٌ، فَمَا زَادَ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
ربیع نے روایت کیا، حسن رحمہ اللہ نے کہا: حیض کی مدت دس دن ہے، اس سے زیادہ مستحاضہ ہو گی۔
وقَالَ عَطَاءٌ: "الْحَيْضُ خَمْسَ عَشْرَةَ". .
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: حیض (کی زیادہ مدت) پندرہ دن ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: "الْحَيْضُ عَشْرَةٌ فَمَا زَادَ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حیض کی مدت دس دن ہے، زیادہ ہو تو مستحاضہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "الْحَيْضُ إِلَى ثَلَاثَ عَشْرَةَ، فَمَا زَادَ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: حیض کی مدت تیرہ دن تک کی ہے، اس سے زیادہ (خون جاری رہے تو وہ) مستحاضہ ہے۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: "الْحَيْضُ عَشْرَةُ أَيَّامٍ، ثُمَّ هِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: حیض دس دن شمار ہو گا، پھر وہ عورت مستحاضہ مانی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "الْحَيْضُ إِلَى ثَلَاثَةَ عَشَرَ يَوْمًا، فَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: حیض تیرہ دن تک ہے، اس سے زیادہ مستحاضہ ہے۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا رَأَتْ الدَّمَ فَإِنَّهَا تُمْسِكُ عَنْ الصَّلَاةِ، تَعُدُّ أَيَّامِ حَيْضِهَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، ثُمَّ هِيَ بَعْدَ ذَلِكَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: جب خون دیکھے تو نماز سے رک جائے، اور ایام ماہواری کے بعد ایک دو دن انتظار کر لے، اس کے بعد وہ مستحاضہ شمار ہو گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ جَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَنْتَظِرُ ثَلَاثًا، أَرْبَعًا، خَمْسًا، سِتًّا، سَبْعًا، ثَمَانِيًا، تِسْعًا، عَشْرًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: زائد حیض والی عورت تین چار پانچ چھ سات آٹھ نو دس دن تک انتظار کرے گی (یعنی حیض والی ہی شمار ہو گی)۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "بَلَغَنَا أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَنْتَظِرُ عَلَى أَقْرَائِهَا بِيَوْمٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ مستحاضہ اپنے ایام ماہواری پر ایک دن انتظار کرے گی۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ مَنْ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: "مَا زَادَ عَلَى الْعَشْرَة، فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دس سے زیادہ دن پر مستحاضہ ہو گی۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ مُهَلْهَلٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "أَقْصَى الْحَيْضِ خَمْسَ عَشْرَةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 855 سے 866)
حیض کی مدت کے بارے میں اختلاف ہے، عموماً سات دن ہوا کرتی ہے، اس باب میں جو اقوال ہیں وہ علمائے کرام کے اجتہادات ہیں اور اس بارے میں کوئی صحیح حدیث مروی نہیں ہے۔
نیز یہ کہ ہر عورت اپنے ایامِ ماہواری کی مدت اچھی طرح جانتی ہے۔
حیض کی مدت کے بارے میں اختلاف ہے، عموماً سات دن ہوا کرتی ہے، اس باب میں جو اقوال ہیں وہ علمائے کرام کے اجتہادات ہیں اور اس بارے میں کوئی صحیح حدیث مروی نہیں ہے۔
نیز یہ کہ ہر عورت اپنے ایامِ ماہواری کی مدت اچھی طرح جانتی ہے۔