کتب حدیثسنن دارميابوابباب: حیض کی کم سے کم مدت کا بیان
حدیث نمبر: 867
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: بَلَغَنِي عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: "أَدْنَى الْحَيْضِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ"، سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ الدَّارِمِيُّ: تَأْخُذُ بِهَذَا ؟، قَالَ: "نَعَمْ، إِذَا كَانَ عَادَتَهَا"، وَسَأَلْتُهُ أَيْضًا عَنْ هَذَا ؟، قَالَ: "أَقَلُّ الْحَيْضِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَأَكْثَرُهُ خَمْسَ عَشْرَةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حیض کی کم سے کم مدت تین دن ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ کا بھی یہی قول ہے؟ فرمایا: ہاں، جب عادة ایسی ہو تو تین ہی دن مدت حیض ہے۔ سفیان نے کہا: میں نے امام دارمی رحمہ اللہ سے اس بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا: کم سے کم حیض کی مدت ایک دن ایک رات ہے اور زیاد سے زیادہ پندرہ دن۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 867
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 871]
تخریج حدیث اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔
حدیث نمبر: 868
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هُوَ أَبُو سَعْدٍ الصَّغَّانِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الرَّبِيعِ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "أَدْنَى الْحَيْضِ ثَلَاثٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے کہا: کم سے کم مدت حیض تین (دن) ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 868
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لضعف محمد بن أبي زكريا، [مكتبه الشامله نمبر: 872]
تخریج حدیث محمد بن ابی زکریا کی وجہ سے یہ سند کمزور ہے، لیکن آنے والی روایت سے اسے تقویت ملتی ہے۔
حدیث نمبر: 869
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "أَدْنَى الْحَيْضِ يَوْمٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: اقل حیض ایک دن ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 869
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 873]
تخریج حدیث اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [دارقطني 802/1] ، [بيهقي 320/1 وعلقه البخارى الفتح 459/1] ، بیہقی نے امام شافعی سے بھی ایک دن اقل حیض ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [المعرفة 171/2]
حدیث نمبر: 870
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا رَأَتْ الدَّمَ قَبْلَ حَيْضِهَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ فَهُوَ مِنْ الْحَيْضِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے کہا: حیض کے دن شروع ہونے سے ایک دو دن پہلے ہی خون آ جائے تو وہ حیض ہی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 866 سے 870)
حیض کی اقل اور اکثر مدت کے بارے میں اجتہادات اور اختلافات ہیں اور کسی حدیث سے اس کی تحدید نہیں ہوتی، اور ہر عورت کی اپنی عادة شہریہ ہوتی ہے اور عورت بذاتِ خود حیض و استحاضہ میں فرق کر سکتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 870
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 874]
تخریج حدیث اس قول کی سند صحیح ہے۔ وہیب: ابن خالد اور یونس: ابن عبید ہیں۔