حدیث نمبر: 1316
ان الله أمر النبى أن يأكل من طبق جاء به اليه جبريل من رطب الجنة وأمره أن يواقع خديجة فحملت بفاطمة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اس طشتری سے جنت کی تازہ کھجوریں کھایں جو جبرئیل علیہ السلام ان کی طرف لائے ہیں اور پھر خدیجہ رضی اللہ عنہ سے ہم بستری کریں (چنانچہ آ پ نے ایسا کیا) تو خدیجہ رضی اللہ عنہما کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حمل ٹھہر گیا ۔ “
حدیث نمبر: 1317
لما اسري بي الي السماء أدخلني جبريل الجنة فناولني تفاحة فأكلتها فصارت نطفة فى صلبي فلما نزلت واقعت خديجة ففاطمة من تلك النطفة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جب مجھے آسمان کی سیر کرائی گئی تو جبرئیل علیہ السلام نے مجھے جنت میں داخل کیا اور مجھے ایک سیب دیا ، میں نے وہ کھا لیا ، وہ میری پشت میں ایک نطفہ بن گیا ، جب میں نیچے اترا تو میں نے خدیجہ سے ہم بستری کی ، فاطمہ اس نطفہ سے ہے ۔ “
حدیث نمبر: 1318
انا و فاطمة و على فى حظيرة القدس فى قبة بيضاء سقفها عرش الرحمٰن
حافظ عمران ایوب لاہوری
” میں فاطمہ اور علی جنت میں ایک سفید خیمے میں ہوں گے جس کی چھت رحمن کا عرش ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 1319
ان الله أمرني أن ازوج فاطمة من على ففعلت . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میں فاطمہ کا علی سے نکا ح کر دوں ، چنانچہ میں نے ایسا کر دیا ۔ “
حدیث نمبر: 1320
يا على ان الله زوجك فاطمة وجعل صداقها الأرض فمن مشي عليها مبغضا لك يمشي حراما
حافظ عمران ایوب لاہوری
” اے علی ! اللہ تعالیٰ نے تمہارا فاطمہ سے نکاح کر دیا ہے اور اس کا حق مہر زمین کو مقرر کیا ہے ، لہٰذا جو بھی اس پر تم سے نفرت کرتا ہو چلے گا وہ حرام چلے گا ۔ “
حدیث نمبر: 1321
خطب النبى صلى الله عليه وسلم حين زوج فاطمة بعلي فقال الحمد لله المحمود بنعمته المعبود بقدرته . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فاطمہ کا علی سے نکاح کرایا تو یوں خطبہ دیا «الحمد لله المحمود بنعمته المعبود بقدرته . . . » “
حدیث نمبر: 1322
ان جبريل خطب فى السماء فزوج فاطمة من على . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جبرئیل علیہ السلام نے آسمان میں خطبہ دیا اور فاطمہ کا علی سے نکاح کرا دیا ۔ “
حدیث نمبر: 1323
لما زفت فاطمة الي على كان النبى صلى الله عليه وسلم امامها و جبريل عن يمينها و ميكائيل عن يسارها و سبعون الف ملك خلفها يسبحون الله و يقدسونه حتي طلع الفجر
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جبرئیل علیہ السلام دائیں جانب ، میکائیل علیہ السلام بائیں جانب اور ستر ہزار فرشتے ان کے پیچھے تھے جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کر رہے تھے حتی کی فجر طلوع ہو گئی ۔ “
حدیث نمبر: 1324
ابنتي فاطمة حوراء آدمية لم تحض ولم تطمث وانما سماها فاطمة لأن الله فطمها و محبيها من النار
حافظ عمران ایوب لاہوری
” میری بیٹی فاطمہ انسانی حور ہے ، یہ کبھی حائضہ نہیں ہوئی اور اس کا نام فاطمہ (چھڑانے والی) اس لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت کرنے والوں کو جہنم سے چھوڑ دیا (یعنی آزاد کر دیا) ہے ۔ “
حدیث نمبر: 1325
ان فاطمه احصنت فرجها فحرمها الله و ذريتها على النار
حافظ عمران ایوب لاہوری
” فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ناموس کی حفاطت کی ، لہٰذا اللہ نے اسے اور اس کی اولاد کو آتش جہنم پر حرام کر دیا ۔ “
حدیث نمبر: 1326
احكم بيني وبين قاتل ولدي
حافظ عمران ایوب لاہوری
” (میری بیٹی فاطمہ عرش کے پائے پکڑ کر کہے گی اے عادل و منصف پروردگار !) میرے اور میرے بیٹے کے قاتل کے درمیان فیصلہ فرما ۔ “
حدیث نمبر: 1327
اذا كان يوم القيامة نادي مناد من وراء الحجب يا أهل الجمع غضوا أبصاركم عن فاطمة بنت محمد حتي تمر
حافظ عمران ایوب لاہوری
” قیامت کے روز پردوں کے پیچھے سے ایک منادی اعلان کرے گا کہ اے اس اجتماع کے لوگو ! فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گزرنے تک اپنی نطریں جھکائے رکھو ۔ “
حدیث نمبر: 1328
أتاني جبريل فليحب عليا ومن أحب عليا فليحب فاطمة . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” میرے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت کرتے ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 1329
من احبني فليحب عليا ومن أحب عليا فليحب فاطمة . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جسے مجھ سے محبت ہے وہ علی سے محبت کرے اور جسے علی سے محبت ہے وہ فاطمہ سے محبت کرے ۔ “