کتب حدیث › مجموعه ضعيف احاديث › ابواب › باب: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان
❮
❯
ان الله أمر النبى أن يأكل من طبق جاء به اليه جبريل من رطب الجنة وأمره أن يواقع خديجة فحملت بفاطمة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اس طشتری سے جنت کی تازہ کھجوریں کھایں جو جبرئیل علیہ السلام ان کی طرف لائے ہیں اور پھر خدیجہ رضی اللہ عنہ سے ہم بستری کریں (چنانچہ آ پ نے ایسا کیا) تو خدیجہ رضی اللہ عنہما کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حمل ٹھہر گیا ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1316
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
[الموضوعات لابن الجوزي 410/1] ، [السلسلة الضعيفة 3242]
لما اسري بي الي السماء أدخلني جبريل الجنة فناولني تفاحة فأكلتها فصارت نطفة فى صلبي فلما نزلت واقعت خديجة ففاطمة من تلك النطفة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جب مجھے آسمان کی سیر کرائی گئی تو جبرئیل علیہ السلام نے مجھے جنت میں داخل کیا اور مجھے ایک سیب دیا ، میں نے وہ کھا لیا ، وہ میری پشت میں ایک نطفہ بن گیا ، جب میں نیچے اترا تو میں نے خدیجہ سے ہم بستری کی ، فاطمہ اس نطفہ سے ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1317
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
اس کی سند میں محمد بن خلیل مجہول ہے، امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اس کذاب کہا ہے۔ دیکھئے: [اللآلي المصنوعة 360/1] ، [الموضوعات 411/1] ، [الفوائد الموضوعات ص: 389]
انا و فاطمة و على فى حظيرة القدس فى قبة بيضاء سقفها عرش الرحمٰن
حافظ عمران ایوب لاہوری
” میں فاطمہ اور علی جنت میں ایک سفید خیمے میں ہوں گے جس کی چھت رحمن کا عرش ہو گا ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1318
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
[الفوائد المجموعة ص: 338]
ان الله أمرني أن ازوج فاطمة من على ففعلت . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میں فاطمہ کا علی سے نکا ح کر دوں ، چنانچہ میں نے ایسا کر دیا ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1319
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
[السلسلة الضعيفة 1845] ، [ضعيف الجامع الصغير 1564]
يا على ان الله زوجك فاطمة وجعل صداقها الأرض فمن مشي عليها مبغضا لك يمشي حراما
حافظ عمران ایوب لاہوری
” اے علی ! اللہ تعالیٰ نے تمہارا فاطمہ سے نکاح کر دیا ہے اور اس کا حق مہر زمین کو مقرر کیا ہے ، لہٰذا جو بھی اس پر تم سے نفرت کرتا ہو چلے گا وہ حرام چلے گا ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1320
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
[الفوائد المجموعة ص: 390] ، [الموضوعات لابن الجوزي 416/1] ، [تنزيه الشريعة 470/1] ، [اللآلي المصنوعة 362/1]
خطب النبى صلى الله عليه وسلم حين زوج فاطمة بعلي فقال الحمد لله المحمود بنعمته المعبود بقدرته . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فاطمہ کا علی سے نکاح کرایا تو یوں خطبہ دیا «الحمد لله المحمود بنعمته المعبود بقدرته . . . » “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1321
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
امام شوکانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے، اور فرمایا ہے کہ اسے محمد بن دینار عوفی نے گھڑا ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 391] ۔ مزید دیکھئے: [اللآلي المصنوعة 363/1]
ان جبريل خطب فى السماء فزوج فاطمة من على . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جبرئیل علیہ السلام نے آسمان میں خطبہ دیا اور فاطمہ کا علی سے نکاح کرا دیا ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1322
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
[الفوائد المجموعة ص: 391]
لما زفت فاطمة الي على كان النبى صلى الله عليه وسلم امامها و جبريل عن يمينها و ميكائيل عن يسارها و سبعون الف ملك خلفها يسبحون الله و يقدسونه حتي طلع الفجر
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جبرئیل علیہ السلام دائیں جانب ، میکائیل علیہ السلام بائیں جانب اور ستر ہزار فرشتے ان کے پیچھے تھے جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کر رہے تھے حتی کی فجر طلوع ہو گئی ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1323
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے۔ [الموضوعات 420/1] ۔ مزید دیکھئے: [تنزيه الشريعة 472/1]
ابنتي فاطمة حوراء آدمية لم تحض ولم تطمث وانما سماها فاطمة لأن الله فطمها و محبيها من النار
حافظ عمران ایوب لاہوری
” میری بیٹی فاطمہ انسانی حور ہے ، یہ کبھی حائضہ نہیں ہوئی اور اس کا نام فاطمہ (چھڑانے والی) اس لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت کرنے والوں کو جہنم سے چھوڑ دیا (یعنی آزاد کر دیا) ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1324
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے۔ [السلسلة الضعيفة 428]
ان فاطمه احصنت فرجها فحرمها الله و ذريتها على النار
حافظ عمران ایوب لاہوری
” فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ناموس کی حفاطت کی ، لہٰذا اللہ نے اسے اور اس کی اولاد کو آتش جہنم پر حرام کر دیا ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1325
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث { «ضعیف» } :
ابن طاہر مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں عمر بن غیاث راوی منکر الحدیث ہے۔ [معرفة التذكرة ص: 123]
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ [ضعيف الجامع 1885]
احكم بيني وبين قاتل ولدي
حافظ عمران ایوب لاہوری
” (میری بیٹی فاطمہ عرش کے پائے پکڑ کر کہے گی اے عادل و منصف پروردگار !) میرے اور میرے بیٹے کے قاتل کے درمیان فیصلہ فرما ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1326
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ روایت بلاشبہ موضوع ہے۔ [الموضوعات 432/1]
میزان میں ہے کہ یہ روایت باطل ہے، اور امام سیوطی رحمہ اللہ نے بھی اسے موضوع کہا ہے۔ [اللآلي المصنوعة 367/1]
اذا كان يوم القيامة نادي مناد من وراء الحجب يا أهل الجمع غضوا أبصاركم عن فاطمة بنت محمد حتي تمر
حافظ عمران ایوب لاہوری
” قیامت کے روز پردوں کے پیچھے سے ایک منادی اعلان کرے گا کہ اے اس اجتماع کے لوگو ! فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گزرنے تک اپنی نطریں جھکائے رکھو ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1327
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
اس میں عباس بن ولید راوی ہے جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے کذاب کہا ہے۔
امام ابن جوزی رحمہ اللہ اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو موضوع کہا ہے۔ [أسنی المطالب ص: 45] ، [ الموضوعات 432/1] ، [ذخيرة الحفاظ ص: 355] ، [كشف الخفاء 96/1] ، [السلسلة الضعيفة 2688]
أتاني جبريل فليحب عليا ومن أحب عليا فليحب فاطمة . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” میرے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت کرتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1328
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث باطل اور جھوٹ ہے۔ دیکھئے: [الموضوعات لابن الجوزي 4/2] ، [اللآلي المصنوعة 369/1]
من احبني فليحب عليا ومن أحب عليا فليحب فاطمة . . .
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جسے مجھ سے محبت ہے وہ علی سے محبت کرے اور جسے علی سے محبت ہے وہ فاطمہ سے محبت کرے ۔ “
حوالہ حدیث مجموعه ضعيف احاديث / حدیث: 1329
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث { «موضوع» } :
امام شوکانی رحمہ اللہ نے نقل فرمایا ہے کہ اس کی سند میں عبداللہ بن حفص واضع راوی ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 395] ۔ مزید دیکھئے: [تنزيه الشريعة 473/1]