حدیث نمبر: 1276
لمن أنت قالت للمقتول شهيدا عثمان بن عفان
حافظ عمران ایوب لاہوری
” (معراج کی رات ایک حور سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا) تم کس کے لیے ہو ؟ اس نے کہا: شہادت کی موت حاصل کرنے والے عثمان بن عفان کے لیے ۔ “
حدیث نمبر: 1277
انه كان يبغض عثمان فأبغضه الله
حافظ عمران ایوب لاہوری
” (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھائی تو صحابہ کے دریافت کرنے پر وجہ بتائی کہ) یہ شخص عثمان رضی اللہ عنہ سے نفرت کیا کرتا تھا اس لیے اللہ بھی اس سے نفرت کرتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 1278
ان عثمان ليتحول من منزل الي منزل فتبرق له الجنة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” عثمان رضی اللہ عنہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں تو جنت ان کے لیے چمک اٹھتی ہے ۔ “
حدیث نمبر: 1279
أن النبى صلى الله عليه وسلم نهض الي عثمان فاعتنقه ثم قال أنت ولي فى الدنيا والأخرة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے عثمان رضی اللہ عنہ کو مضبوطی سے پکڑا ، پھر فرمایا کہ تم دنیا و آخرت میں میرے دوست ہو ۔ “
حدیث نمبر: 1280
لكل نبي خليل فى امته وان خليلي عثمان بن عفان
حافظ عمران ایوب لاہوری
” ہر نبی کے لیے اس کی امت میں ایک خلیل (گہرا دوست) ہوتا ہے اور میرا خلیل عثمان رضی اللہ عنہ ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 1281
ما فى الجنة شجرة الا مكتوب على كل ورقة منها . . . عثمان ذو النورين
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جنت کے درختوں کے ہر پتے پر (میرے نام کے ساتھ) عثمان ذوالنورین لکھا ہے ۔ “