لمن أنت قالت للمقتول شهيدا عثمان بن عفان
حافظ عمران ایوب لاہوری
” (معراج کی رات ایک حور سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا) تم کس کے لیے ہو ؟ اس نے کہا: شہادت کی موت حاصل کرنے والے عثمان بن عفان کے لیے ۔ “
انه كان يبغض عثمان فأبغضه الله
حافظ عمران ایوب لاہوری
” (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھائی تو صحابہ کے دریافت کرنے پر وجہ بتائی کہ) یہ شخص عثمان رضی اللہ عنہ سے نفرت کیا کرتا تھا اس لیے اللہ بھی اس سے نفرت کرتا ہے ۔ “
ان عثمان ليتحول من منزل الي منزل فتبرق له الجنة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” عثمان رضی اللہ عنہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں تو جنت ان کے لیے چمک اٹھتی ہے ۔ “
أن النبى صلى الله عليه وسلم نهض الي عثمان فاعتنقه ثم قال أنت ولي فى الدنيا والأخرة
حافظ عمران ایوب لاہوری
” نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے عثمان رضی اللہ عنہ کو مضبوطی سے پکڑا ، پھر فرمایا کہ تم دنیا و آخرت میں میرے دوست ہو ۔ “
لكل نبي خليل فى امته وان خليلي عثمان بن عفان
حافظ عمران ایوب لاہوری
” ہر نبی کے لیے اس کی امت میں ایک خلیل (گہرا دوست) ہوتا ہے اور میرا خلیل عثمان رضی اللہ عنہ ہیں ۔ “
ما فى الجنة شجرة الا مكتوب على كل ورقة منها . . . عثمان ذو النورين
حافظ عمران ایوب لاہوری
” جنت کے درختوں کے ہر پتے پر (میرے نام کے ساتھ) عثمان ذوالنورین لکھا ہے ۔ “