کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دے اور آپ پر احسانات کی تکمیل کر دے اور آپ کو سیدھے راستہ پر لے چلے“۔
حدیث نمبر: 4836
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ هُوَ ابْنُ عِلَاقَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ ، يَقُولُ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، انہیں ابن عیینہ نے خبر دی ، ان سے زیاد نے بیان کیا اور انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں رات بھر کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں سوج گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف کر دی ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4836
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4837
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، سَمِعَ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : " أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا " ، فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ صَلَّى جَالِسًا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَقَرَأَ ، ثُمَّ رَكَعَ .
مولانا داود راز
´ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن یحییٰ نے بیان کیا ، انہیں حیوہ نے خبر دی ، انہیں ابوالاسود نے ، انہوں نے عروہ سے سنا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ اتنی زیادہ مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا پھر میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں ۔ عمر کے آخری حصہ میں ( جب طویل قیام دشوار ہو گیا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر رات کی نماز پڑھتے اور جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو جاتے ( اور تقریباً تیس یا چالیس آیتیں اور پڑھتے ) پھر رکوع کرتے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4837
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة