باب: غزوہ عشیرہ یا عسرہ کا بیان۔
حدیث 3949–3949
باب: بدر کی لڑائی میں فلاں فلاں مارے جائیں گے، اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کا بیان۔
حدیث 3950–3950
باب: غزوہ بدر کا بیان۔
حدیث 3951–3951
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے تھے، پھر اس نے تمہاری فریاد سن لی، اور فرمایا کہ تمہیں لگاتار ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا اور اللہ نے یہ بس اس لیے کیا کہ تمہیں بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو اس سے اطمینان حاصل ہو جائے، ورنہ فتح تو بس اللہ ہی کے پاس سے ہے، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے اور وہ وقت بھی یاد کرو جب اللہ نے اپنی طرف سے چین دینے کو تم پر نیند کو بھیج دیا تھا اور آسمان سے تمہارے لیے پانی اتار رہا تھا کہ اس کے ذریعے سے تمہیں پاک کر دے اور تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کر دے اور تاکہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس کے باعث تمہارے قدم جما دے (اور اس وقت کو یاد کرو) جب تیرا پروردگار وحی کر رہا تھا فرشتوں کی طرف کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، سو ایمان لانے والوں کو جمائے رکھو میں ابھی کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں، سو تم کافروں کی گردنوں پر مارو اور ان کے جوڑوں پر ضرب لگاو۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے، سو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔
حدیث 3952–3953
باب:۔۔۔
حدیث 3954–3954
باب: جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کا شمار۔
حدیث 3955–3959
باب: کفار قریش، شیبہ، عتبہ، ولید اور ابوجہل بن ہشام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بددعا کرنا اور ان کی ہلاکت کا بیان۔
حدیث 3960–3960
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
حدیث 3961–3981
باب: بدر کی لڑائی میں حاضر ہونے والوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 3982–3983
حدیث 3984–3991
باب: جنگ بدر میں فرشتوں کا شریک ہونا۔
حدیث 3992–3995
حدیث 3996–4027
باب: بترتیب حروف تہجی، ان اصحاب کرام کے نام جنہوں نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی۔
حدیث 4028–4028
باب: بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان۔
حدیث 4028–4036
باب: کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا قصہ۔
حدیث 4037–4037
باب: ابورافع یہودی عبداللہ بن ابی الحقیق کے قتل کا قصہ۔
حدیث 4038–4040
باب: غزوہ احد کا بیان۔
حدیث 4041–4050
باب: جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور ایمانداروں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
حدیث 4051–4065
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”بیشک تم میں سے جو لوگ اس دن واپس لوٹ گئے جس دن کہ دونوں جماعتیں آپس میں مقابل ہوئی تھیں تو یہ تو بس اس سبب سے ہوا کہ شیطان نے انہیں ان کے بعض کاموں کی وجہ سے بہکا دیا تھا اور بیشک اللہ انہیں معاف کر چکا ہے، یقیناً اللہ بڑا مغفرت والا، بڑا حلم والا ہے“۔
حدیث 4066–4066
باب: (اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”وہ وقت یاد کرو جب تم چڑھے جا رہے تھے اور پیچھے مڑ کر بھی کسی کو نہ دیکھتے تھے اور رسول تم کو پکار رہے تھے، تمہارے پیچھے سے، سو اللہ نے تمہیں غم دیا، غم کی پاداش میں، تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے نکل گئی اور نہ اس مصیبت سے جو تم پر آ پڑی اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے“۔
حدیث 4067–4067
باب: (اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”پھر اس نے اس غم کے بعد تمہارے اوپر راحت یعنی غنودگی نازل کی کہ اس کا تم میں سے ایک جماعت پر غلبہ ہو رہا تھا اور ایک جماعت وہ تھی کہ اسے اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی، یہ اللہ کے بارے میں خلاف حق اور جاہلیت کے خیالات قائم کر رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ کیا ہم کو بھی کچھ اختیار ہے؟ آپ کہہ دیجئیے کہ اختیار تو سب اللہ کا ہے، یہ لوگ دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہمارا اختیار چلتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، آپ کہہ دیجئیے کہ اگر تم گھروں میں ہوتے تب بھی وہ لوگ جن کے لیے قتل مقدر ہو چکا تھا، اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل ہی پڑتے اور یہ سب اس لیے ہوا کہ اللہ تمہارے دلوں کی آزمائش کرے اور تاکہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے صاف کرے اور اللہ تعالیٰ دل کی باتوں کو خوب جانتا ہے“۔
حدیث 4068–4068
باب: (اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں، اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں“۔
حدیث 4069–4070
باب: ام سلیط رضی اللہ عنہا کا تذکرہ۔
حدیث 4071–4071
باب: حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
حدیث 4072–4072
باب: غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو زخم پہنچے تھے ان کا بیان۔
حدیث 4073–4074
حدیث 4075–4076
باب: (اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز کو عملاً قبول کیا“ (یعنی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کے لیے فوراً تیار ہو گئے)۔
حدیث 4077–4077
باب: جن مسلمانوں نے غزوہ احد میں شہادت پائی ان کا بیان۔
حدیث 4078–4082
باب: ارشاد نبوی کہ احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے۔
حدیث 4083–4085
باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
حدیث 4086–4096
باب: غزوہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے۔
حدیث 4097–4116
باب: غزوہ احزاب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واپس لوٹنا اور بنو قریظہ پر چڑھائی کرنا اور ان کا محاصرہ کرنا۔
حدیث 4117–4124
باب: غزوہ ذات الرقاع کا بیان۔
حدیث 4125–4137
باب: غزوہ بنو المصطلق کا بیان جو قبیلہ بنو خزاعہ سے ہوا تھا اور یہی غزوہ مریسیع (بھی کہلاتا) ہے۔
حدیث 4138–4139
باب: غزوہ انمار کا بیان۔
حدیث 4140–4140
باب: واقعہ افک کا بیان۔
حدیث 4141–4146
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
حدیث 4147–4191
باب: قبائل عکل اور عرینہ کا قصہ۔
حدیث 4192–4193
باب: ذات قرد کی لڑائی کا بیان۔
حدیث 4194–4194
باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
حدیث 4195–4243
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر والوں پر تحصیل دار مقرر فرمانا۔
حدیث 4244–4247
باب: خیبر والوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ طے کرنا۔
حدیث 4248–4248
باب: اس بکری کا گوشت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دیا گیا تھا۔
حدیث 4249–4249
باب: غزوہ زید بن حارثہ کا بیان۔
حدیث 4250–4250
باب: عمرہ قضاء کا بیان۔
حدیث 4251–4259
باب: غزوہ موتہ کا بیان جو سر زمین شام میں سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔
حدیث 4260–4268
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا۔
حدیث 4269–4273
باب: غزوہ فتح مکہ کا بیان۔
حدیث 4274–4274
باب: فتح مکہ کا بیان جو رمضان سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔
حدیث 4275–4279
باب: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا کہاں گاڑا تھا؟
حدیث 4280–4288
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر کے بالائی جانب سے مکہ میں داخل ہونا۔
حدیث 4289–4291
حدیث 4292–4292
باب: فتح مکہ کے دن قیام نبوی کا بیان۔
حدیث 4293–4296
باب: فتح مکہ کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں قیام کرنا۔
حدیث 4297–4299
حدیث 4300–4313
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورۃ التوبہ میں) کہ ”یاد کرو تم کو اپنی کثرت تعداد پر گھمنڈ ہو گیا تھا پھر وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہونے لگی، پھر تم پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے، اس کے بعد اللہ نے تم پر اپنی طرف سے تسلی نازل کی“ «غفور رحيم» تک۔
حدیث 4314–4322
باب: غزوہ اوطاس کا بیان۔
حدیث 4323–4323
باب:غزوہ طائف کا بیان جو شوال سنہ ۸ ھ میں ہوا۔
حدیث 4324–4337
باب: نجد کی طرف جو لشکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا (اس کا بیان)۔
حدیث 4338–4338
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنی جذیمہ قبیلے کی طرف بھیجنا۔
حدیث 4339–4339
باب: عبداللہ بن حذافہ سہمی اور علقمہ بن مجزز المدلجی رضی اللہ عنہما کے دستہ کا بیان۔
حدیث 4340–4340
باب: حجۃ الوداع سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
حدیث 4341–4348
باب: حجۃ الوداع سے پہلے علی بن ابی طالب اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
حدیث 4349–4354
باب: غزوہ ذوالخلصہ کا بیان۔
حدیث 4355–4357
باب: غزوہ ذات السلاسل کا بیان۔
حدیث 4358–4358
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا یمن کی طرف جانا۔
حدیث 4359–4359
باب: غزوہ سیف البحر کا بیان۔
حدیث 4360–4362
باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لوگوں کے ساتھ سنہ ۹ ھ میں حج کرنا۔
حدیث 4363–4364
باب: بنی تمیم کے وفد کا بیان۔
حدیث 4365–4365
حدیث 4366–4367
باب: وفد عبدالقیس کا بیان۔
حدیث 4368–4371
باب: وفد بنو حنیفہ اور ثمامہ بن اثال کے واقعات کا بیان۔
حدیث 4372–4377
باب: اسود عنسی کا قصہ۔
حدیث 4378–4379
باب: نجران کے نصاریٰ کا قصہ۔
حدیث 4380–4382
باب: عمان اور بحرین کا قصہ۔
حدیث 4383–4383
باب: قبیلہ اشعر اور اہل یمن کی آمد کا بیان۔
حدیث 4384–4391
باب: قبیلہ دوس اور طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کا بیان۔
حدیث 4392–4393
باب: قبیلہ طے کے وفد اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا قصہ۔
حدیث 4394–4394
باب: حجۃ الوداع کا بیان۔
حدیث 4395–4414
باب: غزوہ تبوک کا بیان، اس کا دوسرا غزوہ عسرت یعنی (تنگی کا غزوہ) بھی ہے۔
حدیث 4415–4417
باب: کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا بیان۔
حدیث 4418–4418
باب: بستی حجر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزرنا۔
حدیث 4419–4420
حدیث 4421–4423
باب: کسریٰ (شاہ ایران) اور قیصر (شاہ روم) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطوط لکھنا۔
حدیث 4424–4427
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
حدیث 4428–4462
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ جو زبان مبارک سے نکلا۔
حدیث 4463–4463
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
حدیث 4464–4466
حدیث 4467–4467
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو مرض الموت میں ایک مہم پر روانہ کرنا۔
حدیث 4468–4469
حدیث 4470–4470
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے؟
حدیث 4471–4473
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔