باب: حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 1513–1513
باب: اللہ پاک کا سورۃ الحج میں یہ ارشاد کہ لوگ پیدل چل کر تیرے پاس آئیں اور دبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے اس لیے کہ دین اور دنیا کے فائدے حاصل کریں۔
حدیث 1514–1515
باب: پالان پر سوار ہو کر حج کرنا۔
حدیث 1516–1518
باب: حج مبرور کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 1519–1521
باب: حج اور عمرہ کی میقاتوں کا بیان۔
حدیث 1522–1522
باب: فرمان باری تعالیٰ کہ توشہ ساتھ میں لے لو اور سب سے بہتر توشہ تقویٰ ہے۔
حدیث 1523–1523
باب: مکہ والے حج اور عمرے کا احرام کہاں سے باندھیں۔
حدیث 1524–1524
باب: مدینہ والوں کا میقات اور انہیں ذوالحلیفہ سے پہلے احرام نہ باندھنا چاہئے۔
حدیث 1525–1525
باب: شام کے لوگوں کے احرام باندھنے کی جگہ کہاں ہے؟
حدیث 1526–1526
باب: نجد والوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ کون سی ہے؟
حدیث 1527–1528
باب: جو لوگ میقات کے ادھر رہتے ہوں ان کے احرام باندھنے کی جگہ۔
حدیث 1529–1529
باب: یمن والوں کے احرام باندھنے کی جگہ کون سی ہے؟
حدیث 1530–1530
باب: عراق والوں کے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق ہے۔
حدیث 1531–1531
باب:۔۔۔
حدیث 1532–1532
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شجرہ پر سے گزر کر جانا۔
حدیث 1533–1533
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ وادی عقیق مبارک وادی ہے۔
حدیث 1534–1535
باب: اگر کپڑوں پر خلوق (ایک قسم کی خوشبو) لگی ہو تو اس کو تین بار دھونا۔
حدیث 1536–1536
باب: احرام باندھنے کے وقت خوشبو لگانا اور احرام کے ارادہ کے وقت کیا پہننا چاہئے اور کنگھا کرے اور تیل لگائے۔
حدیث 1537–1539
باب: بالوں کو جما کر باندھنا۔
حدیث 1540–1540
باب: ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس احرام باندھنا۔
حدیث 1541–1541
باب: محرم کو کون سے کپڑے پہننا درست نہیں۔
حدیث 1542–1542
باب: حج کے لیے سوار ہونا یا سواری پر کسی کے پیچھے بیٹھنا درست ہے۔
حدیث 1543–1544
باب: محرم چادریں، تہبند اور کون کون سے کپڑے پہنے۔
حدیث 1545–1545
باب: (مدینہ سے چل کر) ذوالحلیفہ میں صبح تک ٹھہرنا۔
حدیث 1546–1547
باب: لبیک بلند آواز سے کہنا۔
حدیث 1548–1548
باب: تلبیہ کا بیان۔
حدیث 1549–1550
باب: احرام باندھتے وقت جب جانور پر سوار ہونے لگے تو لبیک سے پہلے الحمداللہ، سبحان اللہ اللہ اکبر کہنا۔
حدیث 1551–1551
باب: جب سواری سیدھی لے کر کھڑی ہو اس وقت لبیک پکارنا۔
حدیث 1552–1552
باب: قبلہ رخ ہو کر احرام باندھتے ہوئے لبیک پکارنا۔
حدیث 1553–1554
باب: نالے میں اترتے وقت لبیک کہے۔
حدیث 1555–1555
باب: حیض والی اور نفاس والی عورتیں کس طرح احرام باندھیں۔
حدیث 1556–1556
باب: جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے احرام میں یہ نیت کی جو نیت نبی کریم کی ہے۔
حدیث 1557–1559
باب: اللہ پاک کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ حج کے مہینے مقرر ہیں جو کوئی ان میں حج کی ٹھان لے تو شہوت کی باتیں نہ کرے نہ گناہ اور جھگڑے کے قریب جائے کیونکہ حج میں خاص طور پر یہ گناہ اور جھگڑے بہت ہی برے ہیں۔
حدیث 1560–1560
باب: حج میں تمتع، قران اور افراد کا بیان اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو، اسے حج فسخ کر کے عمرہ بنا دینے کی اجازت ہے۔
حدیث 1561–1569
باب: اگر کوئی لبیک میں حج کا نام لے۔
حدیث 1570–1570
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تمتع کا جاری ہونا۔
حدیث 1571–1571
باب: اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا ”تمتع یا قربانی کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر والے مسجد الحرام کے پاس نہ رہتے ہوں“۔
حدیث 1572–1572
باب: مکہ میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا۔
حدیث 1573–1573
باب: مکہ میں رات اور دن میں داخل ہونا۔
حدیث 1574–1574
باب: مکہ میں کدھر سے داخل ہو۔
حدیث 1575–1575
باب: مکہ سے جاتے وقت کون سی راہ سے جائے۔
حدیث 1576–1581
باب: فضائل مکہ اور کعبہ کی بناء کا بیان۔
حدیث 1582–1586
باب: حرم کی زمین کی فضیلت۔
حدیث 1587–1587
باب: مکہ شریف کے گھر مکان میراث ہو سکتے ہیں ان کا بیچنا اور خریدنا جائز ہے۔
حدیث 1588–1588
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کہاں اترے تھے؟
حدیث 1589–1590
باب: اللہ تعالیٰ نے سورۃ ابراہیم میں فرمایا اور جب ابراہیم نے کہا میرے رب! اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو اس سے محفوظ رکھیو کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ میرے رب! ان بتوں نے بہتوں کو گمراہ کیا ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «لعلهم يشکرون» تک۔
حدیث 1591–1591
باب: اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا اللہ نے کعبہ کو عزت والا گھر اور لوگوں کے قیام کی جگہ بنایا ہے اور اس طرح حرمت والے مہینہ کو بنایا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان «وأن الله بكل شىء عليم» تک۔
حدیث 1591–1593
باب: کعبہ پر غلاف چڑھانا۔
حدیث 1594–1594
باب: کعبہ کے گرانے کا بیان۔
حدیث 1595–1596
باب: حجر اسود کا بیان۔
حدیث 1597–1597
باب: کعبہ کا دروازہ اندر سے بند کر لینا اور اس کے ہر کونے میں نماز پڑھنا جدھر چاہے۔
حدیث 1598–1598
باب: کعبہ کے اندر نماز پڑھنا۔
حدیث 1599–1599
باب: جو کعبہ میں داخل نہ ہو۔
حدیث 1600–1600
باب: جس نے کعبہ کے چاروں کونوں میں تکبیر کہی۔
حدیث 1601–1601
باب: رمل کی ابتداء کیسے ہوئی؟
حدیث 1602–1602
باب: جب کوئی مکہ میں آئے تو پہلے حجر اسود کو چومے طواف شروع کرتے وقت اور تین پھیروں میں رمل کرے۔
حدیث 1603–1603
باب: حج اور عمرہ میں رمل کرنے کا بیان۔
حدیث 1604–1606
باب: حجر اسود کو چھڑی سے چھونا اور چومنا۔
حدیث 1607–1607
باب: اس شخص سے متعلق جس نے صرف دونوں ارکان یمانی کا استلام کیا۔
حدیث 1608–1609
باب: حجر اسود کو بوسہ دینا۔
حدیث 1610–1611
باب: حجر اسود کے سامنے پہنچ کر اس کی طرف اشارہ کرنا (جب چومنا نہ ہو سکے)۔
حدیث 1612–1612
باب: حجر اسود کے سامنے آ کر تکبیر کہنا۔
حدیث 1613–1613
باب: جو شخص (حج یا عمرہ کی نیت سے) مکہ میں آئے تو اپنے گھر لوٹ جانے سے پہلے طواف کرے پھر دوگانہ طواف ادا کرے پھر صفا پہاڑ پر جائے۔
حدیث 1614–1617
باب: عورتیں بھی مردوں کے ساتھ طواف کریں۔
حدیث 1618–1619
باب: طواف میں باتیں کرنا۔
حدیث 1620–1620
باب: جب طواف میں کسی کو باندھا دیکھے یا کوئی اور مکروہ چیز تو اس کو کاٹ سکتا ہے۔
حدیث 1621–1621
باب: بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا آدمی نہیں کر سکتا اور نہ کوئی مشرک حج کر سکتا ہے۔
حدیث 1622–1622
باب: اگر طواف کرتے کرتے بیچ میں ٹھہر جائے۔
حدیث 1623–1623
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف کے ساتھ چکروں کے بعد دو رکعتیں پڑھنا۔
حدیث 1623–1624
باب: جو شخص پہلے طواف یعنی طواف قدوم کے بعد پھر کعبہ کے نزدیک نہ جائے اور عرفات میں حج کرنے کے لیے جائے۔
حدیث 1625–1625
باب: اس شخص کے بارے میں جس نے طواف کی دو رکعتیں مسجد الحرام سے باہر پڑھیں۔
حدیث 1626–1626
باب: اس سے متعلق کہ جس نے طواف کی دو رکعتیں مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھیں۔
حدیث 1627–1627
باب: صبح اور عصر کے بعد طواف کرنا۔
حدیث 1628–1631
باب: مریض آدمی سوار ہو کر طواف کر سکتا ہے۔
حدیث 1632–1633
باب: حاجیوں کو پانی پلانا۔
حدیث 1634–1635
باب: زمزم کا بیان۔
حدیث 1636–1637
باب: قران کرنے والا ایک طواف کرے یا دو؟
حدیث 1638–1640
باب: (کعبہ کا) طواف وضو کر کے کرنا۔
حدیث 1641–1642
باب: صفا اور مروہ کی سعی واجب ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
حدیث 1643–1643
باب: صفا اور مروہ کے درمیان کس طرح دوڑے۔
حدیث 1644–1649
باب: حیض والی عورت بیت اللہ کے طواف کے سوا تمام ارکان بجا لائے۔
حدیث 1650–1652
باب: جو شخص مکہ میں رہتا ہو وہ منیٰ کو جاتے وقت بطحاء وغیرہ مقاموں سے احرام باندھے۔
حدیث 1653–1653
باب: آٹھویں ذی الحجہ کو نماز ظہر کہاں پڑھی جائے۔
حدیث 1653–1654
باب: منی میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث 1655–1657
باب: عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
حدیث 1658–1658
باب: صبح کے وقت منی سے عرفات جاتے ہوئے لبیک اور تکبیر کہنے کا بیان۔
حدیث 1659–1659
باب: عرفہ کے دن گرمی میں دوپہر کو روانہ ہونا۔
حدیث 1660–1660
باب: عرفات میں جانور پر سوار ہو کر وقوف کرنا۔
حدیث 1661–1661
باب: عرفات میں دو نمازوں (ظہر اور عصر) کو ملا کر پڑھنا۔
حدیث 1662–1662
باب: میدان عرفات میں خطبہ مختصر دینا۔
حدیث 1663–1663
باب: وقوف کے لیے جلدی کرنا۔
حدیث 1664–1664
باب: میدان عرفات میں ٹھہرنے کا بیان۔
حدیث 1664–1665
باب: عرفات سے لوٹتے وقت کس چال سے چلے۔
حدیث 1666–1666
باب: عرفات اور مزدلفہ کے درمیان اترنا۔
حدیث 1667–1670
باب: عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کو سکون و اطمینان کی ہدایت کرنا اور کوڑے سے اشارہ کرنا۔
حدیث 1671–1671
باب: مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھنا۔
حدیث 1672–1672
باب: مغرب اور عشاء مزدلفہ میں ملا کر پڑھنا اور سنت وغیرہ نہ پڑھنا۔
حدیث 1673–1674
باب: جس نے کہا کہ ہر نماز کے لیے اذان اور تکبیر کہنی چاہئے اس کی دلیل۔
حدیث 1675–1675
باب: عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات میں آگے منی روانہ کر دینا، وہ مزدلفہ میں ٹھہریں اور دعا کریں اور چاند ڈوبتے ہی چل دیں۔
حدیث 1676–1681
باب: فجر کی نماز مزدلفہ ہی میں پڑھنا۔
حدیث 1682–1683
باب: مزدلفہ سے کب چلا جائے؟
حدیث 1684–1684
باب: دسویں تاریخ کو صبح تک تکبیر اور لبیک کہتے رہنا جمرہ عقبہ کی رمی تک اور چلتے ہوئے (سواری پر کسی کو) اپنے پیچھے بٹھا لینا۔
حدیث 1685–1687
باب: (سورۃ البقرہ کی اس آیت کی تفسیر میں) پس جو شخص تمتع کرے حج کے ساتھ عمرہ کا یعنی حج تمتع کر کے فائدہ اٹھائے تو اس پر ہے جو کچھ میسر ہو قربانی سے اور اگر کسی کو قربانی میسر نہ ہو تو تین دن کے روزے ایام حج میں اور سات دن کے روزے گھر واپس ہونے پر رکھے، یہ پورے دس دن (کے روزے) ہوئے، یہ آسانی ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر والے مسجد کے پاس نہ رہتے ہوں۔
حدیث 1688–1688
باب: قربانی کے جانور پر سوار ہونا (جائز ہے)۔
حدیث 1689–1690
باب: اس شخص کے بارے میں جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے جائے۔
حدیث 1691–1692
باب: اس شخص کے بارے میں جس نے قربانی کا جانور راستے میں خریدا۔
حدیث 1693–1693
باب: جس نے ذو الحلیفہ میں اشعار کیا اور قلادہ پہنایا پھر احرام باندھا!۔
حدیث 1694–1696
باب: گائے اونٹ وغیرہ قربانی کے جانوروں کے قلاوے بٹنے کا بیان۔
حدیث 1697–1698
باب: قربانی کے جانور کا اشعار کرنا۔
حدیث 1699–1699
باب: اس کے بارے میں جس نے اپنے ہاتھ سے (قربانی کے جانوروں کو) قلائد پہنائے۔
حدیث 1700–1700
باب: بکریوں کو ہار پہنانے کا بیان۔
حدیث 1701–1704
باب: اون کے ہار بٹنا۔
حدیث 1705–1705
باب: جوتوں کا ہار ڈالنا۔
حدیث 1706–1706
باب: قربانی کے جانوروں کے لیے جھول کا ہونا۔
حدیث 1707–1707
باب: اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی ہدی راستہ میں خریدی اور اسے ہار پہنایا۔
حدیث 1708–1708
باب: کسی آدمی کا اپنی بیویوں کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر گائے کی قربانی کرنا۔
حدیث 1709–1709
باب: منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں نحر کیا وہاں نحر کرنا۔
حدیث 1710–1711
باب: اپنے ہاتھ سے نحر کرنا۔
حدیث 1712–1712
باب: اونٹ کو باندھ کر نحر کرنا۔
حدیث 1713–1713
باب: اونٹوں کو کھڑا کر کے نحر کرنا۔
حدیث 1714–1715
باب: قصاب کو بطور مزدوری اس قربانی کے جانوروں میں سے کچھ نہ دیا جائے۔
حدیث 1716–1716
باب: قربانی کی کھال خیرات کر دی جائے گی۔
حدیث 1717–1717
باب: قربانی کے جانوروں کے جھول بھی صدقہ کر دیے جائیں۔
حدیث 1718–1718
باب: اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جب ہم نے بتلا دیا ابراہیم کو ٹھکانا اس گھر کا اور کہہ دیا کہ شریک نہ کر میرے ساتھ کسی کو، اور پاک رکھ میرا گھر طواف کرنے والوں اور کھڑے رہنے والوں، اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لیے اور پکار لوگوں میں حج کے واسطے کہ آئیں تیری طرف پیدل اور سوار ہو کر، دبلے پتلے اونٹوں پر، چلے آتے راہوں دور دراز سے کہ پہنچیں اپنے فائدوں کی جگہوں پر اور یاد کریں اللہ کا نام کئی دنوں میں جو مقرر ہیں، چوپائے جانوروں پر جو اس نے دیئے ہیں، سو ان کو کھاؤ اور کھلاؤ برے حال فقیر کو، پھر چاہئے کہ دور کریں اپنا میل کچیل اور پوری کریں اپنی نذریں اور طواف کریں اس قدیم گھر (کعبہ) کا، یہ سن چکے اور جو کوئی اللہ کی عزت دی ہوئی چیزوں کی عزت کرے تو اس کو اپنے مالک کے پاس بھلائی پہنچے گی۔
حدیث 1719–1719
باب: قربانی کے جانوروں میں سے کیا کھائیں اور کیا خیرات کریں۔
حدیث 1719–1720
باب: سر منڈوانے سے پہلے ذبح کرنا۔
حدیث 1721–1724
باب: اس کے متعلق جس نے احرام کے وقت سر کے بالوں کو جما لیا اور احرام کھولتے وقت سر منڈوا لیا۔
حدیث 1725–1725
باب: احرام کھولتے وقت بال منڈوانا یا ترشوانا۔
حدیث 1726–1730
باب: تمتع کرنے والا عمرہ کے بعد بال ترشوائے۔
حدیث 1731–1731
باب: دسویں تاریخ میں طواف الزیارۃ کرنا۔
حدیث 1732–1733
باب: کسی نے شام تک رمی نہ کی یا قربانی سے پہلے بھول کر یا مسئلہ نہ جان کر سر منڈوا لیا تو کیا حکم ہے؟
حدیث 1734–1735
باب: جمرہ کے پاس سوار رہ کر لوگوں کو مسئلہ بتانا۔
حدیث 1736–1738
باب: منیٰ کے دنوں میں خطبہ سنانا۔
حدیث 1739–1742
باب: منی کی راتوں میں جو لوگ مکہ میں پانی پلاتے ہیں یا اور کچھ کام کرتے ہیں وہ مکہ میں رہ سکتے ہیں۔
حدیث 1743–1745
باب: کنکریاں مارنے کا بیان۔
حدیث 1746–1746
باب: رمی جمار وادی کے نشیب سے کرنے کا بیان۔
حدیث 1747–1747
باب: رمی جمار سات کنکریوں سے کرنا۔
حدیث 1748–1748
باب: اس شخص کے متعلق جس نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو بیت اللہ کو اپنی بائیں طرف کیا۔
حدیث 1749–1749
باب: اس بیان میں کہ (حاجی کو) کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہنا چاہئے۔
حدیث 1750–1750
باب: اس کے متعلق جس نے جمرہ عقبہ کی رمی کی اور وہاں ٹھہرا نہیں۔
حدیث 1751–1751
باب: جب حاجی دونوں جمروں کی رمی کر چکے تو ہموار زمین پر قبلہ رخ کھڑا ہو جائے۔
باب: پہلے اور دوسرے جمرہ کے پاس جا کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا۔
حدیث 1752–1752
باب: دونوں جمروں کے پاس دعا کرنے کے بیان میں۔
حدیث 1753–1753
باب: رمی جمار کے بعد خوشبو لگانا اور طواف الزیارۃ سے پہلے سر منڈانا۔
حدیث 1754–1754
باب: طواف وداع کا بیان۔
حدیث 1755–1756
باب: اگر طواف افاضہ کے بعد عورت حائضہ ہو جائے؟
حدیث 1757–1762
باب: اس سے متعلق جس نے روانگی کے دن عصر کی نماز ابطح میں پڑھی۔
حدیث 1763–1764
باب: وادی محصب کا بیان۔
حدیث 1765–1766
باب: مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ذی طویٰ میں قیام کرنا اور مکہ سے واپسی میں ذی الحلیفہ کے کنکریلے میدان میں قیام کرنا۔
حدیث 1767–1768
باب: اس سے متعلق جس نے مکہ سے واپس ہوتے ہوئے ذی طویٰ میں قیام کیا۔
حدیث 1769–1769
باب: زمانہ حج میں تجارت کرنا اور جاہلیت کے بازاروں میں خرید و فروخت کا بیان۔
حدیث 1770–1770
باب: (آرام کر لینے کے بعد) وادی محصب سے آخری رات میں چل دینا۔
حدیث 1771–1772
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔