حدیث نمبر: 4911
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ حَكِيمٍ هُوَ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " فِي الْحَرَامِ يُكَفَّرُ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : 0 لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ إِسْوَةٌ حَسَنَةٌ 0 " .
مولانا داود راز

´ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے ، ان سے ابن حکیم نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس نے کہا کہ` اگر کسی نے اپنے اوپر کوئی حلال چیز حرام کر لی تو اس کا کفارہ دینا ہو گا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «لقد كان لكم في رسول الله إسوة حسنة‏» یعنی ” بیشک تمہارے لیے تمہارے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4911
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4911. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اگر کسی نے اپنے اوپر کوئی حلال چیز حرام کر لی تو اس کا کفارہ دینا ہو گا۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’بےشک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4911]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو خوش کرنے کے لیے خود پر شہد کو حرام کرلیا تھا، جس کی تفصیل آئندہ حدیث میں آ رہی ہے، اس طرح کا کام اگر کسی ضرورت ومصلحت کے لیے ہوتو جائز ہے گناہ نہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ آپ نے یہ کام ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کو راضی کرنے کے لیے کیا تھا جبکہ ایسے معاملات میں ان کا راضی کرنا آپ پر لازم نہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ اس قسم کا کفارہ دیں اور قسم کا کفارہ ہے: دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلایا جائے یا انھیں لباس دیا جائے یا ایک غلام لونڈی کو آزاد کیا جائے۔
اگر ان میں سے کسی چیز کی طاقت نہ ہوتو تین دن کے روزے رکھے جائیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4911 سے ماخوذ ہے۔