صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ} : باب: آیت کی تفسیر ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے لیے استغفار فرما دیں تو وہ اپنا سر پھیر لیتے ہیں اور آپ انہیں دیکھیں گے کہ تکبر کرتے ہوئے وہ کس قدر بےرخی برت رہے ہیں“۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ عَمِّي ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ابْنَ سَلُولَ ، يَقُولُ : لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا ، وَلَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي ، فَذَكَرَ عَمِّي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَانِي ، فَحَدَّثْتُهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَأَصْحَابِهِ ، فَحَلَفُوا مَا قَالُوا ، وَكَذَّبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَدَّقَهُمْ ، فَأَصَابَنِي غُمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ قَطُّ ، فَجَلَسْتُ فِي بَيْتِي ، وَقَالَ عَمِّي : مَا أَرَدْتَ إِلَى أَنْ كَذَّبَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَقَتَكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ سورة المنافقون آية 1 ، قَالُوا : نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ، وَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهَا ، وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ " .´ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` میں نے اپنے چچا کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہو جائیں اور اگر اب ہم مدینہ واپس لوٹیں گے تو ہم میں سے جو عزت والے ہیں ان ذلیلوں کو نکال باہر کر دیں گے ۔ میں نے اس کا ذکر اپنے چچا سے کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کی تصدیق کر دی تو مجھے اس کا اتنا افسوس ہوا کہ پہلے کبھی کسی بات پر نہ ہوا ہو گا ، میں غم سے اپنے گھر میں بیٹھ گیا ۔ میرے چچا نے کہا کہ تمہارا کیا ایسا خیال تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں جھٹلایا اور تم پر خفا ہوئے ہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إذا جاءك المنافقون قالوا نشهد إنك لرسول الله» ” جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوا کر اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تصدیق نازل کر دی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن ابی نے قسمیں کھا کھا کر اپنی برات ظاہر کی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی باتوں کا یقین کر لیا بعد وحی الٰہی نے عبداللہ بن ابی کا جھوٹ ظاہر فرمایا اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کے بیان کی تصدیق فرمائی جس سے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کا دل مطمئن ہو گیا اور منافقین کا سورۃ منافقین میں سارا پول کھول دیا گیا۔
1۔
عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی اعتقادی نفاق کا شکار تھے جس کی درج ذیل چھ قسمیں ہیں:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انھیں انتہائی بغض تھا۔
۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے بھی وہ خوش نہیں تھے۔
۔
وہ دن رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے تھے۔
۔
ان تعلیمات کی بھی تکذیب کرتے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کرآئے تھے۔
۔
دین اسلام کی مدد کو انتہائی ناپسند خیال کرتے تھے۔
۔
دین اسلام کو نیچا دیکھنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔
۔
ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا ہے: ’’اورجب تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے،حالانکہ وہ کفر لیے ہوئے ہی آئے تھے اور اسی کفر کے ساتھ ہی واپس چلے گئے۔
اور جو کچھ یہ چھپارہے ہیں اسے اللہ خوب جانتاہے۔
‘‘ (المائدة: 61/5)
ان لوگوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وعظ کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا مقصد حصول ہدایت نہیں بلکہ دھوکا دہی ہوتا تھا ایسی حاضری سے انھیں فائدہ بھی کیا ہو سکتا تھا۔
واللہ اعلم۔
دونوں نے اپنی حمایت کے لیے اپنی جماعت کو پکارا جس پر خاصہ ہنگامہ ہوگیا۔
یہ خبر رئیس منافقین عبداللہ بن ابی کو پہنچی کہنے لگا اگر ہم ان مہا جرین کو اپنے شہر میں جگہ نہ دیتے تو ہم سے مقابلہ کیوں کرتے، تم ہی خبر گیری کرتے ہو تو یہ لوگ رسول اللہ کے ساتھ جمع رہتے ہیں خبر گیری چھوڑ دو ابھی خرچ سے تنگ آکر متفرق ہی ہو جائیں گے اور سب مجمع بچھڑ جائے گا یہ بھی کہا کہ اس سفر سے واپس ہو کر ہم مدینہ پہنچیں تو جس کا اس شہر میں زور و اقتدار ہے چاہئے کہ ذلیل بے قدروں کو نکال دے (یعنی ہم جو معزز لوگ ہیں ذلیل مسلمانوں کو نکال دیں گے)
ایک صحابی حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے یہ باتیں سن کر حضرت کے پاس نقل کرا دیں۔
آپ نے عبداللہ بن ابی وغیرہ سے تحقیق کی تو قسمیں کھانے لگے کہ زید بن ارقم (رضی اللہ عنہما)
نے ہماری دشمنی سے جھوٹ بولا ہے۔
لوگ زید پر آوازیں کسنے لگے وہ بےچارے سخت نادم تھے اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے سچا کر دیا۔
روایات میں ہے کہ عبداللہ بن ابی کے وہ الفاظ کہ عزت والا ذلیل کو ذلت کے ساتھ نکال دے گا جب اس کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن ابی کو پہنچے، جو مخلص مسلمان تھے تو باپ کے سامنے تلوار لے کر کھڑے ہو گئے بولے جب تک اقرار نہ کرے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے ہیں اور تو ذلیل ہے زندہ نہ چھوڑوں گا اور نہ مدینہ میں گھسنے دوں گا آخر اقرار کرا کر چھوڑا۔
عبداللہ بن ابی نے مسلمانوں کو ذلیل اور اپنے آپ کو اور دیگر منافقین کو عزت دار سمجھا حالانکہ یہ کم بخت عزت اور عزت داری کا اصول بھی نہیں سمجھتے، اصل عزت وہ ہے جو زوال پذیر نہ ہو۔
مال سرکاری نوکری تجارت وغیرہ یہ سب زوال پذیر ہیں آج کوئی شخص مالدار ہے تو کل نہیں آج کوئی سرکاری عہدہ پر ہے تو کل معزول ہے اس لئے ان لوگوں کی عزت اصل نہیں۔
اصل عزت الله کی ہے اور رسول کی ہے اور صالحین کی ہے جو شخص ایمان کی وجہ سے معزز ہیں چاہے۔
امیر ہوں یا غریب اس میں کچھ فرق نہیں، ان کے علماء فقراءعزت کے مستحق ہیں، وہ سب مومنین میں داخل ہیں مگر منافق لوگ جانتے نہیں ہیں کہ عزت کیا شے ہے، مسلمانو! تم جانتے ہو کہ ان منافقوں کا یہ گھمنڈ دو وجہ سے ہے ایک قوت بازو سے یعنی یہ جانتے ہیں کہ ہم مالدار ہیں۔
دوم یہ ہے کہ ہم اولاد والے بھی ہیں ہم جہاں کھڑے ہو جائیں ہماری قوت ہمارے ساتھ ہے یہ باتیں غرور کی ہیں پس تم مال اور اولاد کا گھمنڈ نہ کرنا کیونکہ یہ چیزیں آنے اور جانے والی ہیں، ان پر گھمنڈ کرنا اور اترانا نہ چاہئے بلکہ شکر کرنا چاہئے پس تم مسلمان ایسے افعال مکروہ سے بچتے رہا کرو اور منافقوں کی طرح بخل نہ کیا کرو۔
(ثنائی)
1۔
جن قسموں کو منافقین بطورڈھال استعمال کرتے تھے وہ کئی طرح کی ہوسکتی ہیں، مثلاً:۔
وہ قسمیں جو عام طور پر منافق اپنے ایمان کا یقین دلانے کے لیے کھایا کرتے تھے۔
۔
وہ قسمیں جو منافق اپنی منافقانہ حرکت کے پکڑے جانے پر کھایا کرتے تھے تاکہ مسلمانوں کو یقین دلائیں کہ وہ حرکت انھوں نے منافقت کی بنا پر نہیں کی تھی۔
۔
وہ قسمیں بھی ہوسکتی ہیں جورئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ملعون نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دی ہوئی خبر کو جھٹلانے کے لیے کھائی تھیں۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کے تحت یہ واقعہ بیان کر کے اپنا رجحان بیان کیا ہے کہ ان قسموں سے مراد قسمیں وہ ہیں جو منافقوں نے زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جھوٹا قرار دینے کے لیے اٹھائی تھیں۔
واللہ اعلم۔
1۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے نسائی کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک سے واپسی پر پیش آیا۔
(السنن الکبری للنسائي: 492/6/8۔
رقم: 11597)
لیکن اہل مغازی کا رجحان ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بنی مصطلق میں ہوا، اس کی تائید آئندہ آنے والی حدیث جابر سے بھی ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 821/8)
2۔
واضح رہے کہ شہادت دو چیزوں سے مرکب ہوتی ہے: ایک وہ اصل بات جس کی شہادت دی جائے، دوسرے اس بات کے متعلق شہادت دینے کا عقیدہ ہے۔
اب اگر بات بجائے خود بھی سچی ہو شہادت دینے والا کا عقیدہ بھی وہی ہو جسے زبان سے بیان کررہا ہے تو ہر لحاظ سے وہ سچا ہوگا جیسا کہ زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عبداللہ بن ابی کے متعلق شہادت تھی اور اگر بات اپنی جگہ جھوٹی ہو لیکن شہادت دینے والا اس کے حق ہونے کا عقیدہ رکھتا ہو تو ہم ایک لحاظ سے اسے سچا کہیں گے کیونکہ وہ اپنا عقیدہ بیان کرنے میں صادق ہے اور دوسرے لحاظ سے اسے جھوٹا کہیں گے کیونکہ جس بات کی وہ شہادت دے رہاہے وہ بجائے خود غلط ہے۔
اس کے برعکس اگر بات اپنی جگہ سچی ہو لیکن شہادت دینے والے کا اپنا عقیدہ اس کےخلاف ہو جیسا کہ منافقین کی شہادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان ہوئی ہے تو اس لحاظ سے اسے جھوٹا کہیں گے کہ اس کا اپنا عقیدہ وہ نہیں جس کا وہ زبان سے اظہار کررہا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کو جھوٹا قرار دیا ہے۔
1۔
اس روایت میں ہے کہ انھوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع دی تھی جبکہ پہلی روایات میں ہے کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے چچے کو بتایا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔
ان روایات میں کوئی تضادنہیں کیونکہ پہلے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے چچے سے واقعہ بیان کیا، پھر جب منافقوں نے اس کا انکار کیا تو آپ نے زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے آپ کو حقیقت حال سے آگاہ کیا۔
2۔
اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیب داں نہیں تھے۔
دلوں کا حال صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
عبداللہ بن ابی ملعون نے قسمیں اٹھا کر اپنی براءت کو ظاہر کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی باتوں کا یقین کر لیا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے اس کے جھوٹ کا پول کھول دیا اورسیدنا زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق فرمائی۔
واللہ اعلم۔
حکم بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن کعب قرظی کو چالیس سال سے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کرتے سن رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والے لوگ ذلت والوں کو مدینہ سے ضرور نکال باہر کریں گے، وہ کہتے ہیں: میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اور آپ کو یہ بات بتا دی (جب اس سے بازپرس ہوئی) تو وہ قسم کھا گیا کہ اس نے تو ایسی کوئی بات کہی ہی نہیں ہے، میری قوم نے مجھے ملامت کی، لوگوں نے کہا: تجھے اس طرح کی (جھوٹ) بات کہنے سے کیا ملا؟ میں گھر آ گیا، رنج و غم میں ڈوبا ہوا لیٹ گیا، پھر نب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3314]
وضاحت:
1؎:
وہی لوگ تھے جو کہتے تھے ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ ﷺ کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں (المنافقون: 7)