صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلاَ سَائِبَةٍ وَلاَ وَصِيلَةٍ وَلاَ حَامٍ} : باب: آیت کی تفسیر ”اللہ نے نہ بحیرہ کو مقرر کیا ہے، نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو“۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : الْبَحِيرَةُ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ فَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ ، وَالسَّائِبَةُ : كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ لَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ " ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ ، وَالْوَصِيلَةُ : النَّاقَةُ الْبِكْرُ ، تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الْإِبِلِ ، ثُمَّ تُثَنِّي بَعْدُ بِأُنْثَى ، وَكَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِطَوَاغِيتِهِمْ إِنْ وَصَلَتْ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى لَيْسَ بَيْنَهُمَا ذَكَرٌ ، وَالْحَامِ : فَحْلُ الْإِبِلِ ، يَضْرِبُ الضِّرَابَ الْمَعْدُودَ ، فَإِذَا قَضَى ضِرَابَهُ وَدَعُوهُ لِلطَّوَاغِيتِ وَأَعْفَوْهُ مِنَ الْحَمْلِ ، فَلَمْ يُحْمَلْ عَلَيْهِ شَيْءٌ ، وَسَمَّوْهُ الْحَامِيَ . وقَالَ لِي أَبُو الْيَمَانِ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ،سَمِعْتُ سَعِيدًا ، قَالَ : يُخْبِرُهُ بِهَذَا ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَرَوَاهُ ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے ، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ` «بحيرة» اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کا دودھ بتوں کے لیے روک دیا جاتا اور کوئی شخص اس کے دودھ کو دوہنے کا مجاز نہ سمجھا جاتا اور «سائبة» اس اونٹنی کو کہتے تھے جسے وہ اپنے دیوتاؤں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے اور اس سے باربرداری و سواری وغیرہ کا کام نہ لیتے ۔ سعید راوی نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتوں کو جہنم میں گھسیٹ رہا تھا ، اس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم نکالی تھی ۔ اور «وصيلة» اس جوان اونٹنی کو کہتے تھے جو پہلی مرتبہ مادہ بچہ جنتی اور پھر دوسری مرتبہ بھی مادہ ہی جنتی ، اسے بھی وہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے لیکن اسی صورت میں جبکہ وہ برابر دو مرتبہ مادہ بچہ جنتی اور اس درمیان میں کوئی نر بچہ نہ ہوتا ۔ اور «حام» وہ نر اونٹ جو مادہ پر شمار سے کئی دفعہ چڑھتا ( اس کے نطفے سے دس بچے پیدا ہو جاتے ) جب وہ اتنی صحبتیں کر چکتا تو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور بوجھ لادنے سے معاف کر دیتے ( نہ سواری کرتے ) اس کا نام «حام» رکھتے اور ابوالیمان ( حکم بن نافع ) نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہوں نے زہری سے سنا ، کہا میں نے سعید بن مسیب سے یہی حدیث سنی جو اوپر گزری ۔ سعید نے کہا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ( وہی عمرو بن عامر خزاعی کا قصہ جو اوپر گزرا ) اور یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بھی اس حدیث کو ابن شہاب سے روایت کیا ۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
عمرو بن خزاعی کے متعلق علامہ عینی ؒ لکھتے ہیں کہ اس کا نام عمرو بن لحی بن قمعہ ہے قبیلہ خزاعہ کے سرداروں سے تھا۔
یہ ان لوگوں سے تھا جو جرہم کےبعد بیت اللہ کے متولی ہوئے تھے۔
یہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت ابراہیم ؑ کے دین کو بدلا اور بتوں کو حجاز میں داخل کیا نیز اس نے چرواہوں کو بتوں کی عبادت کرنے پر ابھارا اور جاہلیت کی رسومات کو ان میں رواج دیا۔
(عمدة القاري: 589/12)
2۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو اس طرح مشروع نہیں کیا تھا بلکہ اس نے ہر قسم کی نذر ونیاز اپنے لیے مخصوص کی ہے بتوں کے لیے نذر و نیاز کے یہ طریقے مشرکین نے ایجاد کیے۔
بتوں اور معبودان باطلہ کے نام پر جانور چھوڑنے اور ان کے لیے نذر و نیاز پیش کرنے کا یہ سلسلہ آج بھی مشرکین بلکہ نام نہاد مسلمانوں میں جاری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اس کی کوئی سند نہیں اتاری۔
یہ سب جاہلوں کا طور طریقہ ہے جو ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکا ہے۔
أعاذنا اللہ منه۔
بڑے پیر کے نام کی دیگ۔
پھر ان کے لیے ایسے ہی خاص رسوم مروج ہیں کہ ان کو فلاں کھائے اور فلاں نہ کھائے، یہ سب جہالت اور ضلالت کی باتیں ہیں۔
اللہ پاک ایسے نام نہاد مسلمانوں کو نیک سمجھ عطا کرے کہ وہ کفار کی اس تقلید سے باز آئیں۔
اس حدیث میں چند ایسے جانوروں کا ذکر ہے جنھیں مشرک اپنے معبودان باطلہ کی تعظیم کے لیے چھوڑدیتے تھے اور انھیں اپنے لیے حرام کرلیتے تھے۔
قرآن کریم نے اس رسمِ بد کی خوب تردید کی ہے۔
(المائدة: /103/5)
ہمارے ہاں بھی اس طرح کی بدرسمیں رائج ہیں۔
لوگ اپنے نام نہاد پیروں کے نام پر جانور چھوڑدیتے ہیں کہ یہ خواجہ کا بکرا ہے اور یہ جھولے لعل کی گائیں ہیں، یہ بڑے پیر کی دیگ ہے۔
جب گیارہویں آتی ہے تو لوگ بھینسوں کا دودھ فروخت نہیں کرتے بلکہ بڑے پیر جیلانی کے نام وقف کردیتے ہیں۔
یہ سب جہالت وضلالت اورگمراہی کی باتیں ہیں، اسلام کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اللہ ہمیں سیدھے راستے پر قائم رکھے اور ایسے شرکیہ امور سے بچائے۔
آمین
سيوب، سائبة کی جمع ہے۔