صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے؟
حدیث نمبر: 4471
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : " سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : سَبْعَ عَشْرَةَ ، قُلْتُ : كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : تِسْعَ عَشْرَةَ " .مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تم نے کتنے غزوے کئے تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ سترہ ۔ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوے کئے تھے ؟ فرمایا کہ انیس ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
4471. حضرت ابو اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت زید بن ارقم ؓ سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ کتنے غزوات میں شرکت کی ہے؟ انہوں نے کہا: سترہ (17) میں۔ میں نے (پھر) پوچھا: نبی ﷺ نے (خود) کتنے غزوات میں حصہ لیا؟ انہوں نے فرمایا: انیس (10) (غزوات) میں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4471]
حدیث حاشیہ: یعنی ان جہادوں میں آنحضرتﷺ بہ نفس نفیس تشریف لے گئے۔
جنگ ہویا نہ ہو۔
ابویعلیٰ کی روایت میں اکیس جہاد ایسے منقول ہیں جن میں آنحضرت ﷺ تشریف لے گئے ہیں۔
بعض نے کہا آپ ستائیس جہادوں میں خود تشریف لے گئے ہیں اور47 لشکر ایسے روانہ کئے ہیں جن میں خود شریک نہیں ہوئے، جن جہادوں میں جنگ ہوئی وہ نو ہیں۔
بدر، احد، مریسیع، خندق، بنی قریظہ، خیبر، فتح مکہ، حنین، اور طائف۔
جنگ ہویا نہ ہو۔
ابویعلیٰ کی روایت میں اکیس جہاد ایسے منقول ہیں جن میں آنحضرت ﷺ تشریف لے گئے ہیں۔
بعض نے کہا آپ ستائیس جہادوں میں خود تشریف لے گئے ہیں اور47 لشکر ایسے روانہ کئے ہیں جن میں خود شریک نہیں ہوئے، جن جہادوں میں جنگ ہوئی وہ نو ہیں۔
بدر، احد، مریسیع، خندق، بنی قریظہ، خیبر، فتح مکہ، حنین، اور طائف۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4471 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3949 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3949. حضرت ابو اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت زید بن ارقم ؓ کے پہلو میں (بیٹھا ہوا) تھا کہ ان سے پوچھا گیا: نبی ﷺ نے کتنی جنگیں لڑی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ انیس (19)۔ میں نے پوچھا: آپ کتنی جنگوں میں آپ ﷺ کے ہمراہ تھا؟ انہوں نے فرمایا: سترہ (17) میں۔ میں نے پوچھا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ عشیر یا عسیرہ۔ میں نے حضرت قتادہ ؓ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ (صحیح لفظ) عشیرہ ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3949]
حدیث حاشیہ: آنحضرت ﷺ کفار قریش کے ایک قافلہ کی خبر سن کر تشریف لے گئے تھے مگر قافلہ تو نہیں ملا ہاں جنگ بدر اس کے نتیجہ میں وقوع میں آئی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3949 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3949 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3949. حضرت ابو اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت زید بن ارقم ؓ کے پہلو میں (بیٹھا ہوا) تھا کہ ان سے پوچھا گیا: نبی ﷺ نے کتنی جنگیں لڑی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ انیس (19)۔ میں نے پوچھا: آپ کتنی جنگوں میں آپ ﷺ کے ہمراہ تھا؟ انہوں نے فرمایا: سترہ (17) میں۔ میں نے پوچھا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ عشیر یا عسیرہ۔ میں نے حضرت قتادہ ؓ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ (صحیح لفظ) عشیرہ ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3949]
حدیث حاشیہ:
1۔
غزوہ بدر کا سبب عشیرہ کا سفرتھا۔
رسول اللہ ﷺ قریش کے سردارابوسفیان کا پیچھا کرنے کے لیے نکلے جو شام سے مالِ تجارت لے کر واپس مکے جارہے تھے۔
اور ابوجہل وغیرہ اس کے تعاون کے لیے نکلے۔
مالِ تجارت والا قافلہ تو بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔
لیکن مقام بدر پر اسلام اور کفر کے مابین عظیم معرکہ برپا ہوا جس میں ابوجہل اور قریش کے بڑے بڑے سورما مارے گئے۔
کفر کی ٹوٹ گئی اور اسلام کا عروج شروع ہوا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے کتاب المغازی کا آغاز غزوہ عشیرہ سے کیا ہے اور اس میں زید بن ارقم ؓ کی روایت لائے ہیں، حالانکہ اہل سیر کا اتفاق ہے کہ اس سے پہلے تقریباً تین غزوات ہوچکےتھے۔
اس بنا پر حضرت زید بن ارقم ؓ کے قول کی یہ توجیہ ہوگی کہ شاید اس وقت حضرت زید ؓ مسلمان نہ ہوئے ہوں، یا انھوں نے چھوٹے چھوٹے غزوات کو ذکر کرنا مناسب خیال نہ کیا ہو، یا انھوں نے اپنے علم کے مطابق بیان کیا ہو اور اس عشیرہ سے پہلے غزوات کا انھیں علم نہ ہوسکا۔
3۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری ؒ کی غرض اول المغازی کو بیان کرنا نہیں بلکہ غزوہ عشیرہ کاخاص طورپر اس لیے ذکر کیا ہے کہ وہ غزوہ بدر کبریٰ کے لیے بطور تمہید کے ہے۔
انھوں نے ابن اسحاق کا قول بھی اسی لیے ذکر کیا جاتا ہےتاکہ حضرت زید بن ارقم کی روایت سے اول المغازی کا وہم دور ہوجائے۔
4۔
غزوہ عشیرہ سے پہلے سرایا اور غزوات حسب ذیل ہیں:۔
سریہ سیف البحر رمضان 1ہجری۔
۔
سریہ رابغ شوال 1ہجری۔
۔
غزوہ ابواء صفر 2ہجری۔
۔
سریہ ضرار ذی القعدہ 1ہجری۔
۔
غزوہ بواط ربیع الاول 2ہجری۔
۔
غزوہ سفوان ربیع الاول 2ہجری۔
۔
اس کے بعد غزوہ عشیرہ جمادی الاولیٰ 2ہجری میں پیش آیا۔
پھر سریہ نخلہ رجب 2ہجری میں ہوا۔
آخر میں غزوہ بدر کبریٰ ہوا جو حق وباطل کے درمیان حقیقی فیصلہ کن غزوہ تھا جسے قرآن نے یوم الفرقان کا نام دیا ہے۔
5۔
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آٹھ جنگیں خود لڑی ہیں ان میں بدر، اُحد، احزاب، بنی مصطلق، خبیر، مکہ، حنین اور طائف سرفہرست ہیں۔
بنوقریظہ سے جنگ، احزاب ہی کا حصہ تھا۔
واللہ اعلم۔
1۔
غزوہ بدر کا سبب عشیرہ کا سفرتھا۔
رسول اللہ ﷺ قریش کے سردارابوسفیان کا پیچھا کرنے کے لیے نکلے جو شام سے مالِ تجارت لے کر واپس مکے جارہے تھے۔
اور ابوجہل وغیرہ اس کے تعاون کے لیے نکلے۔
مالِ تجارت والا قافلہ تو بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔
لیکن مقام بدر پر اسلام اور کفر کے مابین عظیم معرکہ برپا ہوا جس میں ابوجہل اور قریش کے بڑے بڑے سورما مارے گئے۔
کفر کی ٹوٹ گئی اور اسلام کا عروج شروع ہوا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے کتاب المغازی کا آغاز غزوہ عشیرہ سے کیا ہے اور اس میں زید بن ارقم ؓ کی روایت لائے ہیں، حالانکہ اہل سیر کا اتفاق ہے کہ اس سے پہلے تقریباً تین غزوات ہوچکےتھے۔
اس بنا پر حضرت زید بن ارقم ؓ کے قول کی یہ توجیہ ہوگی کہ شاید اس وقت حضرت زید ؓ مسلمان نہ ہوئے ہوں، یا انھوں نے چھوٹے چھوٹے غزوات کو ذکر کرنا مناسب خیال نہ کیا ہو، یا انھوں نے اپنے علم کے مطابق بیان کیا ہو اور اس عشیرہ سے پہلے غزوات کا انھیں علم نہ ہوسکا۔
3۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری ؒ کی غرض اول المغازی کو بیان کرنا نہیں بلکہ غزوہ عشیرہ کاخاص طورپر اس لیے ذکر کیا ہے کہ وہ غزوہ بدر کبریٰ کے لیے بطور تمہید کے ہے۔
انھوں نے ابن اسحاق کا قول بھی اسی لیے ذکر کیا جاتا ہےتاکہ حضرت زید بن ارقم کی روایت سے اول المغازی کا وہم دور ہوجائے۔
4۔
غزوہ عشیرہ سے پہلے سرایا اور غزوات حسب ذیل ہیں:۔
سریہ سیف البحر رمضان 1ہجری۔
۔
سریہ رابغ شوال 1ہجری۔
۔
غزوہ ابواء صفر 2ہجری۔
۔
سریہ ضرار ذی القعدہ 1ہجری۔
۔
غزوہ بواط ربیع الاول 2ہجری۔
۔
غزوہ سفوان ربیع الاول 2ہجری۔
۔
اس کے بعد غزوہ عشیرہ جمادی الاولیٰ 2ہجری میں پیش آیا۔
پھر سریہ نخلہ رجب 2ہجری میں ہوا۔
آخر میں غزوہ بدر کبریٰ ہوا جو حق وباطل کے درمیان حقیقی فیصلہ کن غزوہ تھا جسے قرآن نے یوم الفرقان کا نام دیا ہے۔
5۔
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آٹھ جنگیں خود لڑی ہیں ان میں بدر، اُحد، احزاب، بنی مصطلق، خبیر، مکہ، حنین اور طائف سرفہرست ہیں۔
بنوقریظہ سے جنگ، احزاب ہی کا حصہ تھا۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3949 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4404 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4404. حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے انیس جنگیں لڑیں اور ہجرت کے بعد آپ نے ایک ہی حج کیا ہے، یعنی حجۃ الوداع۔ اس کے بعد آپ نے کوئی حج نہیں کیا۔ ابو اسحاق کا بیان ہے کہ آپ نے (ہجرت سے پہلے) مکہ میں ایک اور حج کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4404]
حدیث حاشیہ: یہ ابو اسحاق کا خیال ہے صحیح یہ ہے کہ آپ نے مکہ میں رہتے وقت بہت حج کئے تھے۔
آپ ہر سال حج کرتے تھے۔
(وحیدی)
آپ ہر سال حج کرتے تھے۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4404 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4404 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4404. حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے انیس جنگیں لڑیں اور ہجرت کے بعد آپ نے ایک ہی حج کیا ہے، یعنی حجۃ الوداع۔ اس کے بعد آپ نے کوئی حج نہیں کیا۔ ابو اسحاق کا بیان ہے کہ آپ نے (ہجرت سے پہلے) مکہ میں ایک اور حج کیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4404]
حدیث حاشیہ:
1۔
ابواسحاق کی روایت سے وہم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت سے پہلے ایک حج کیا ہے، حالانکہ آپ نے ہجرت سے پہلے متعدد حج کیے ہیں کیونکہ آپ نے مکہ میں رہتے ہوئے کوئی حج ترک نہیں کیا۔
2۔
قریش کے لیے توحج بیت اللہ وجہ فخرومباہات تھا، اس سے وہ دوسرے قبائل سے پہچانے جاتے تھے۔
جب قریش کافر ہونے کے باوجود حج ترک نہ کرتے تھے تو کیا رسول اللہ ﷺ اسے چھوڑدیتے ہوں گے؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ حضرت جبیر بن معطم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج کے موقع پر دیکھا تھا کہ آپ میدان عرفات میں وقوف کررہے تھے جبکہ قریش مزدلفہ سے آگے نہیں بڑھتے تھے، نیز اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ رسول اللہ ﷺ حج کے موقع پر مختلف قبائل کو دین اسلام کی دعوت دیتے تھے۔
انصار کے ساتھ تینوں بیعتیں بھی حج کے موقع پر ہوئی تھیں۔
(فتح الباري: 134/8)
1۔
ابواسحاق کی روایت سے وہم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت سے پہلے ایک حج کیا ہے، حالانکہ آپ نے ہجرت سے پہلے متعدد حج کیے ہیں کیونکہ آپ نے مکہ میں رہتے ہوئے کوئی حج ترک نہیں کیا۔
2۔
قریش کے لیے توحج بیت اللہ وجہ فخرومباہات تھا، اس سے وہ دوسرے قبائل سے پہچانے جاتے تھے۔
جب قریش کافر ہونے کے باوجود حج ترک نہ کرتے تھے تو کیا رسول اللہ ﷺ اسے چھوڑدیتے ہوں گے؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ حضرت جبیر بن معطم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج کے موقع پر دیکھا تھا کہ آپ میدان عرفات میں وقوف کررہے تھے جبکہ قریش مزدلفہ سے آگے نہیں بڑھتے تھے، نیز اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ رسول اللہ ﷺ حج کے موقع پر مختلف قبائل کو دین اسلام کی دعوت دیتے تھے۔
انصار کے ساتھ تینوں بیعتیں بھی حج کے موقع پر ہوئی تھیں۔
(فتح الباري: 134/8)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4404 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1254 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ابو اسحاق سے روایت ہے کہ عبداللہ بن یزید، لوگوں کو نماز استسقاء پڑھانے کے لیے نکلے، تو دو رکعتیں پڑھ کر بارش کے لیے دعا مانگی، اس دن میری ملاقات حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوئی، میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی کے سوا اور کوئی نہ تھا، یا میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی تھا، تو میں نے ان سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات میں شرکت کی؟ انہوں نے جواب دیا، انیس (19) میں، میں نے پوچھا، تو نے آپ کے ساتھ کتنے غزوات میں حصہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4692]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: غزوہ سے مراد وہ جنگ ہے، جس میں آپ نے بنفس نفیس شرکت فرمائی اور ان کی تعداد میں اختلاف ہے، جس کی وجہ یہ ہے، بعض نے معمولی غزوات کو نظر انداز کر دیا، یا قریبی غزوات کو ایک دوسرے میں داخل کر دیا، جیسا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے پہلا غزوہ ذات العسیر یا ذات العشیر کو قرار دیا ہے حالانکہ اس سے پہلے غزوہ ابوایا ودان، غزوہ بواط اور غزوہ تعاقب کر زبن جابرفہری ہو چکے تھے اور غزوہ ذات العسیر چوتھا غزوہ تھا، موسیٰ بن عقبہ، محمد بن اسحاق اور محمد بن سعد وغیر ہم ےغزوات کی تفصیل تعداد ستائیس (27)
لکھی ہے، جن میں نو غزوات میں جنگ میں حصہ لیا اور غزوہ احزاب اور غزوہ بنی قریظہ کو ایک شمار کریں تو تعداد آٹھ ہو گی، صحیح تعداد یہ ہے، بعض نے تعداد انیس (19)
اکیس (21)
بائیس(22)
چوبیس(24)
پچیس (25)
اور چھبیس(26)
بھی لکھی ہے۔
لکھی ہے، جن میں نو غزوات میں جنگ میں حصہ لیا اور غزوہ احزاب اور غزوہ بنی قریظہ کو ایک شمار کریں تو تعداد آٹھ ہو گی، صحیح تعداد یہ ہے، بعض نے تعداد انیس (19)
اکیس (21)
بائیس(22)
چوبیس(24)
پچیس (25)
اور چھبیس(26)
بھی لکھی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1254 سے ماخوذ ہے۔