صحيح البخاري
كتاب المناقب— کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلاَمِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3592
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ ، وَتُقَاتِلُونَ قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " .مولانا داود راز
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ، کہا میں نے حسن سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قیامت کے قریب تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کا جوتا پہنتی ہو گی اور ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے منہ تہ بہ تہ ڈھالوں کی طرح ہوں گے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3592. حضرت عمرو بن تغلب ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’تم قیامت سے پہلے ایسے لوگوں سے جنگ کروگے جو بالوں کی جوتیاں پہنیں گے۔ اور تم ایسی قوم سے قتال کرو گے جن کے چہرے گویا کوٹی ہوئی تہ بہ تہ ڈھالیں ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3592]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی ایک پیش گوئی کا ذکر ہے جیسا کہ قبل ازیں احادیث کے فوائد میں اس کی وضاحت ہو چکی ہےیہ پیش گوئی دو قوموں سے متعلق ہے۔
ان میں ایک ترک ہیں۔
اس کی تفصیل حدیث 2927۔
کے تحت بیان ہو چکی ہے۔
امام بخاری ؒ نے کتاب الجہاد میں اس حدیث پر’’ ترکوں سے لڑائی ‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے۔
واللہ المستعان۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی ایک پیش گوئی کا ذکر ہے جیسا کہ قبل ازیں احادیث کے فوائد میں اس کی وضاحت ہو چکی ہےیہ پیش گوئی دو قوموں سے متعلق ہے۔
ان میں ایک ترک ہیں۔
اس کی تفصیل حدیث 2927۔
کے تحت بیان ہو چکی ہے۔
امام بخاری ؒ نے کتاب الجہاد میں اس حدیث پر’’ ترکوں سے لڑائی ‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے۔
واللہ المستعان۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3592 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2927 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2927. حضرت عمرو بن تغلب ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ قیامت کی علامات میں سے ہے کہ تم ایسے لوگوں سے جنگ کرو گے جو بالوں والے جوتے پہنتے ہوں گے۔ اور بے شک قیامت کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تم چوڑے چہرے والے لوگوں سے جنگ کرو گے، گویا ان کے چہرے چوڑی ڈھالیں ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2927]
حدیث حاشیہ: حدیث میں مطوقة یا مطرقة ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اقوام تاتار مراد ہیں جو بعد میں دولت اسلام سے مشرف ہوئے۔
ترک سے مراد یہاں وہ قوم ہے جو یافث بن نوح کی اولاد میں ہے۔
علی العموم تاتار کے لوگ آنحضرتﷺ اور خلفائے اسلام کے زمانوں تک کافر رہے۔
یہاں تک کہ ہلاکو خاں ترک نے عربوں پر چڑھائی کرکے خلافت عباسیہ کا کام تمام کیا۔
اس کے بعد کچھ ترک مشرف باسلام ہوئے۔
وہب بن منبہ نے کہا کہ ترک یاجوج ماجوج کے چچیرے بھائی ہیں۔
جب سد بنائی گئی تو یہ لوگ غائب تھے وہ دیوار کے اسی طرف رہ گئے۔
اسی لئے ان کا نام ترک یعنی متروک ہوگیا‘ واللہ أعلم بالصواب۔
ترک سے مراد یہاں وہ قوم ہے جو یافث بن نوح کی اولاد میں ہے۔
علی العموم تاتار کے لوگ آنحضرتﷺ اور خلفائے اسلام کے زمانوں تک کافر رہے۔
یہاں تک کہ ہلاکو خاں ترک نے عربوں پر چڑھائی کرکے خلافت عباسیہ کا کام تمام کیا۔
اس کے بعد کچھ ترک مشرف باسلام ہوئے۔
وہب بن منبہ نے کہا کہ ترک یاجوج ماجوج کے چچیرے بھائی ہیں۔
جب سد بنائی گئی تو یہ لوگ غائب تھے وہ دیوار کے اسی طرف رہ گئے۔
اسی لئے ان کا نام ترک یعنی متروک ہوگیا‘ واللہ أعلم بالصواب۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2927 سے ماخوذ ہے۔