حدیث نمبر: 3318
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا داود راز

´ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبدالاعلیٰ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ” ایک عورت ایک بلی کے سبب سے دوزخ میں گئی ، اس نے بلی کو باندھ کر رکھا نہ تو اسے کھانا دیا اور نہ ہی چھوڑا کہ وہ کیڑے مکوڑے کھا کر اپنی جان بچا لیتی ۔“ عبدالاعلیٰ نے کہا اور ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب بدء الخلق / حدیث: 3318
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2242

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3318. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کر تے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’ایک عورت محض ایک بلی کی وجہ سے دوزخ میں ڈال دی گئی جس نے اسے باندھ رکھا تھا، نہ تو اس کو خود کچھ کھلایا اور نہ اسے آزاد ہی کیا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاکر اپنی جان بچالیتی۔‘‘ (راوی حدیث) عبدالاعلیٰ نے کہا: ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، انھوں نے سعید مقبری سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے، انھوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3318]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ مخلوقات کو قصداً کچھ بھی تکالیف دینا عنداللہ سخت معیوب اور گناہ عظیم ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3318 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3318. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کر تے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’ایک عورت محض ایک بلی کی وجہ سے دوزخ میں ڈال دی گئی جس نے اسے باندھ رکھا تھا، نہ تو اس کو خود کچھ کھلایا اور نہ اسے آزاد ہی کیا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاکر اپنی جان بچالیتی۔‘‘ (راوی حدیث) عبدالاعلیٰ نے کہا: ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، انھوں نے سعید مقبری سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے، انھوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3318]
حدیث حاشیہ:

حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی تو آپ کو اس دوران میں دوزخ کا مشاہدہ کرایاگیا۔
اس میں آپ نے ایک عورت دیکھی جسے بلی نوچ رہی تھی۔
آپ کے دریافت کرنے پرفرشتوں نے بتایا کہ اس نے ایک بلی کو بلاوجہ قید کررکھا تھا حتی کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔
(صحیح البخاري، المساقاة، حدیث: 2364)

اس حدیث سے معلوم ہواکہ بلی کوتکلیف پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔

امام بخاری ؒ نے حیوانات کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے کیونکہ اس میں بلی کاذکر ہے۔
واللہ أعلم۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کو امام مسلم ؒنے متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح مسلم، البر والصلة و الأدب، حدیث: 6678(2242)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3318 سے ماخوذ ہے۔