صحيح البخاري
كتاب بدء الخلق— کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
بَابُ إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ. وَالْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ: باب: اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا (جہری نماز میں سورۃ فاتحہ کے ختم پر باآواز بلند) آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر (زور سے) آمین کہتے ہیں اور اس طرح دونوں کی زبان سے ایک ساتھ (با آواز بلند) آمین نکلتی ہے تو بندے کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وقَالَ لِي خَلِيفَةُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى رَجُلًا مَرْبُوعًا مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبِطَ الرَّأْسِ ، وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّالَ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللَّهُ إِيَّاهُ فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ " ، قَالَ أَنَسٌ وَأَبُو بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَحْرُسُ الْمَلَائِكَةُ الْمَدِينَةَ مِنَ الدَّجَّالِ " .´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن عروبہ نے ، ان سے قتادہ نے ، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے تمہارے نبی کے چچازاد بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” شب معراج میں ، میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تھا ، گندمی رنگ ، قد لمبا اور بال گھونگھریالے تھے ، ایسے لگتے تھے جیسے قبیلہ شنوہ کا کوئی شخص ہو اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا تھا ۔ درمیانہ قد ، میانہ جسم ، رنگ سرخی اور سفیدی لیے ہوئے اور سر کے بال سیدھے تھے ( یعنی گھونگھریالے نہیں تھے ) اور میں نے جہنم کے داروغہ کو بھی دیکھا اور دجال کو بھی ، منجملہ ان آیات کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دکھائی تھیں ( سورۃ السجدہ میں اسی کا ذکر ہے کہ ) پس ( اے نبی ! ) ان سے ملاقات کے بارے میں آپ کسی قسم کا شک و شبہ نہ کریں ، یعنی موسیٰ علیہ السلام سے ملنے میں ، انس اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں بیان کیا کہ جب دجال نکلے گا تو فرشتے دجال سے مدینہ کی حفاظت کریں گے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شب معراج میں، میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تھا، گندمی رنگ، قد لمبا اور بال گھونگھریالے تھے، ایسے لگتے تھے جیسے قبیلہ شنوہ کا کوئی شخص ہو . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ: 3239]
[أخرجه البخاري فى: 59 كتاب بدء الخلق: 7 باب إذا قال أحدكم آمين والملائكة فى السماء، حدیث: 3239]
لغوی توضیح:
«آدَمُ» گندم گوں۔
«الطُّوَال» طویل۔
«جَعْدا» گھنگھریالے بال۔
«مَرْبُوْع» درمیانے، نہ بہت لمبے نہ بہت چھوٹے۔
«سَبِطَ الرَّأْسِ» سیدھے بال۔
1۔
شنوء، عرب کے ایک قبیلے کا نام ہے جس کے لوگ درازقد والے تھے۔
2۔
امام بخاری ؒ نے حسب سابق اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ فرشتے محض "عقول مجردہ" نہیں بلکہ صاحب شعور مخلوق ہیں۔
وہ اللہ کے احکام بجا لاتے ہیں اور انھیں گناہوں سے سخت نفرت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دجال جو بدی کا سرچشمہ ہے اسے مدینہ طیبہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے کیونکہ مدینہ طیبہ نور ہدایت کا سرچشمہ ہے اسے دجال گدلا نہیں کرسکے گا۔
واللہ المستعان۔
زط سے جاٹ کالفظ بنا ہےجوہندوستان کی ایک مشہور قوم ہےجو ہندو اورمسلمان ہردو مذاہب سےتعلق رکھتے ہیں۔
روایت میں عن مجاہد عن ابن عمر ناقلین کاسہو ہےاصل میں صحیح یہ ہے عن مجاهد عن ابن عباس
1۔
قبل ازیں حدیث میں حضرت موسیٰ ؑ کا وصف "مضطرب" بیان ہواہے،جس کے معنی ہیں خفیف اور ہلکا پھلکا جسم اور یہ وصف جسیم کے خلاف ہے جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
دراصل جسامت کبھی موٹاپے کو ظاہر کرتی ہے اور کبھی طویل القامت ہونے کو،حضرت موسیٰ ؑ درازقد تھے،لہذا ان پر جسیم کا اطلاق بھی درست ہے،اس لیے فرمایا: گویا وہ قبیلہ زط کے لوگوں میں سے ہیں کیونکہ ان لوگوں کا تعلق حبشہ سے ہے اور وہ لمبے قد والے ہوتے ہیں۔
2۔
واضح رہے کہ زط دراصل جٹ کا معرب ہے جنھیں جاٹ بھی کہاجاتا ہے۔
برصغیر میں یہ لوگ درازقد، جسامت اور طاقت میں مشہور ہے۔
: سَبْط: باء پر فتحہ اور کسرہ دونوں آ سکتے ہیں، اور اگر باء کو ساکن پڑھیں تو سین پر فتحہ اور کسرہ دونوں آ سکیں گے، معنی ہے صاف اور سیدھے جن میں خمیدگی نہ ہو۔