صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ اسْتِقْبَالِ الْغُزَاةِ: باب: غازیوں کے استقبال کو جانا (جب وہ جہاد سے لوٹ کر آئیں)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ وَحُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : ابْنُ الزُّبَيْرِ لِابْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ تَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ .´ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن زریع اور حمید بن الاسود نے بیان کیا ‘ ان سے حبیب بن شہید نے اور ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ` عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا ‘ تمہیں وہ قصہ یاد ہے جب میں اور تم اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تینوں آگے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد سے واپس آ رہے تھے ) عبداللہ بن جعفر نے کہا ‘ ہاں یاد ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا ‘ اور تمہیں چھوڑ دیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مگر مسلم میں اس کے برعکس مذکور ہے: وقد نبه عیاض علی أن الذي وقع في البخاري هو الصواب یعنی قاضی عیاض ؒ نے تنبیہ کی ہے کہ بخاری کا بیان زیادہ صحیح ہے۔
اس سے غازیوں کا آگے بڑھ کر استقبال کرنا ثابت ہوا۔
نیز اس سے یتیموں کا زیادہ خیال رکھنا بھی ثابت ہوا۔
کیونکہ حضرت عبداللہ کے والد جعفر بن ابی طالب ؓ انتقال کر چکے تھے۔
آنحضرتﷺ نے ان کے یتیم بچے عبداللہ ؓ کا دل خوش کرنے کے لئے سواری پر ان کومقدم کیا‘ اگر کسی صحابی پر آنحضرتﷺ نے کبھی کسی امر میں نظر عنایت فرمائی تو اس پر اس صحابی کے فخر کرنے کا جواز بھی ثابت ہوا‘ کسی بزرگ کی طرف سے کسی پر نظر عنایت ہو تو وہ آج بھی بطور فخر اسے بیان کر سکتے ہیں۔
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہاد،حج یا دیگر کسی سفر سے واپس آنے والے کا خوشی اورسرور سے استقبال کرنا مستحسن ہے۔
2۔
صحیح مسلم کی ایک رویت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن زبیر ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ کواپنے ساتھ بٹھا لیا اور عبداللہ بن جعفر ؓ کو چھوڑدیا تھا۔
(صحیح البخاري، العمرة، حدیث: 1798)
یہ راوی کا وہم ہے۔
صحیح بخاری کی حدیث راجح ہے،نیز ایک روایت کے مطابق ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ تشریف لائے تو خاندان عبدالمطلب کے بچوں نے آپ کا استقبال کیا۔
آپ نے ایک کو اپنے آگے اور دوسرے کو اپنے پیچھے بٹھالیا۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6266(2427)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن جعفر ؓ کو آپ نے سوارکیا تھا۔
ابن جعفر،خاندان عبدالمطلب سے ہیں۔
(فتح الباري: 230/6)