صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ الأَجِيرِ: باب: جو شخص مزدوری لے کر جہاد میں شریک ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ ، فَحَمَلْتُ عَلَى بَكْرٍ فَهُوَ أَوْثَقُ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي ، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا ، فَقَاتَلَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ وَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا ، فَقَالَ : " أَيَدْفَعُ يَدَهُ إِلَيْكَ ، فَتَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے عطاء نے ، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد ( یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک تھا اور ایک جوان اونٹ میں نے سواری کے لیے دیا تھا ، میرے خیال میں میرا یہ عمل ، تمام دوسرے اعمال کے مقابلے میں سب سے زیادہ قابل بھروسہ تھا ۔ ( کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو گا ) میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا ۔ پھر وہ مزدور ایک شخص ( خود یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ ) سے لڑ پڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت سے کاٹ لیا ۔ دوسرے نے جھٹ جو اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے آگے کا دانت ٹوٹ گیا ۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فریادی ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کھینچنے والے پر کوئی تاوان نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ کیا تمہارے منہ میں وہ اپنا ہاتھ یوں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے چبا جاؤ جیسے اونٹ چباتا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
امام احمد بن حنبل اور اسحاق اور اوزاعی کے نزدیک حصہ نہیں ملے گا۔
دوسرے علماء کہتے ہیں کہ حصہ ملے گا۔
ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ میں بوڑھا آدمی تھا۔
میرے ساتھ کوئی خدمت گار نہ تھا تو میں نے ایک شخص کو مزدوری پر ٹھہرایا۔
اور اس کے لئے دو حصے مقرر کئے۔
مگر وہ اس پر راضی نہیں ہوا۔
تو اس کی مزدوری تین دینار مقرر کی۔
مسلم کی روایت میں ہے کہ یعلیٰ نے کاٹا اور مزدور نے اپنا ہاتھ کھینچا تو یعلیٰ کا دانت نکل پڑا۔
1۔
اس عنوان اور پیش کردہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مجاہد نے جہاد کے لیے جاتے وقت کچھ مزدور اپنی ضروریات کے لیے اپنے ساتھ لے لیے تو کیا یہ مزدور اپنی مزدوری لینے کے بعد مال غنیمت کے بھی حق دار ہوں گے یا نہیں؟ کچھ علماء کا موقف ہے کہ انھیں مال غنیمت سے کوئی حصہ نہیں دیا جائے گا جبکہ دوسرے علماء کہتے ہیں: اگرانھوں نے جنگ میں شرکت کی ہے اگرچہ اجرت ہی پر کیوں نہ ہوتو انھیں مزدوری کے علاوہ مال غنیمت سے بھی حصہ دیا جائے گا۔
2۔
امام بخاری ؒنے اس حدیث سے استنباط کیا ہے کہ آزاد آدمی کو اجرت پر جہاد کے لیے ساتھ لے جانا جائز ہے اور اسے غنیمت سے حصہ بھی دیا جائے گا۔
کیونکہ آیت غنیمت ہر قسم کے مسلمان کو شامل ہے،خواہ وہ مزدور ہو یا مالک۔
ابوداؤد ؒ کی ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ حضرت یعلیٰ ؒ کہتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں جانے کا اعلان کیا تو میں اس وقت بوڑھا تھا،میرا کوئی خادم بھی نہیں تھا،میں نے کسی مزدور کی تلاش شروع کی کہ جسے میں مال غنیمت سے کچھ حصہ مزدوری دوں،چنانچہ میں نے ایک آدمی تلاش کرلیا۔
جب کوچ کا وقت آیا تو اس نے کہا: پتہ نہیں تجھے غنیمت کا حصہ ملے یا نہ ملے،اس لیے میری مزدوری طے کر دیں۔
میں نے تین دینار اس کی مزدوری طے کردی۔
‘‘ (سنن أبي داود، الجھاد، حدیث: 2527)
(1)
پہلی روایت میں ابہام تھا، دوسری روایت میں اس ابہام کو دور کیا گیا کہ ان میں سے ایک خود حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ تھے۔
بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا وہ ان کا خدمت گزار تھا۔
(2)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدمے کو باطل قرار دیا اور فرمایا: ’’تمھارے لیے کوئی دیت وغیرہ نہیں ہے۔
‘‘ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا: ’’تم اس کا گوشت نوچنا چاہتے تھے۔
‘‘ (صحیح مسلم، القسامة، حدیث: 4368(1673)
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پھر تم میرے پاس دیت طلب کرنے کے لیے آئے ہو، جاؤ تمھارے لیے کوئی دیت نہیں۔
‘‘(سنن النسائي، القسامة، حدیث: 4796)
بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ضائع قرار دیا۔
(فتح الباري: 276/12)
اسی لیے اس حدیث کو یہاں ذکر کیا گیا۔
اس حدیث کے متعلق ہماری گزارشات کتاب الدیات میں ذکر ہوں گی۔
چونکہ اس حدیث میں غزوہ عسرہ، یعنی تبوک کا ذکر ہے اس بنا پر امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو یہاں بیان فرمایا ہے۔
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک مزدور نے ایک شخص سے جھگڑا کیا اور اس کے ہاتھ کو منہ میں کر کے دانت سے دبایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت باہر نکل آیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو کر دیا، اور فرمایا: ” کیا چاہتے ہو کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دیدے، اور تم اسے سانڈ کی طرح چبا ڈالو “ ابن ابی ملیکہ نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے لغو قرار دیا اور کہا: (اللہ کرے) اس کا دانت نہ رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4584]
حملہ آور کے مقابلے میں اپنا دفاع کرنا حق واجب ہے اور اس صورت میں حملہ آور کو اگر کو ئی چوٹ لگ جائے یا کوئی نقصان ہو جائے تو اس کا کوئی معاوضہ نہیں۔
یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سے ان کا جھگڑا ہو گیا ان میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا، پہلے نے اپنا ہاتھ دوسرے کے منہ سے چھڑایا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: ” کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جوان اونٹ کی طرح کاٹتا ہے “ پھر آپ نے اسے تاوان نہیں دلایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4767]
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جیش العسرۃ ۱؎ (غزوہ تبوک) میں جہاد کیا، میرے خیال میں یہ میرا بہت اہم کام تھا، میرا ایک نوکر تھا، ایک شخص سے اس کا جھگڑا ہو گیا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی انگلی کاٹ کھائی، پھر پہلے نے اپنی انگلی کھینچی تو دوسرے آدمی کا دانت نکل کر گر پڑا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نے اس کے دانت کی دیت نہیں دلوائی، اور فرمایا: ” کیا وہ اپ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4773]
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آزاد آدمی کو اجرت پر جہاد کے لیے ساتھ لے جانا جائز ہے اور اسے غنیمت سے حصہ بھی دیا جائے گا۔ کیونکہ آ بیت غنیمت ہر طرح کے مسلمان کو شامل ہے۔ (نیز دیکھیں: سنن بی داود: 2527)