صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ الْكَافِرِ يَقْتُلُ الْمُسْلِمَ ثُمَّ يُسْلِمُ فَيُسَدِّدُ بَعْدُ وَيُقْتَلُ: باب: کافر اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارے پھر مسلمان ہو جائے، اسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا افْتَتَحُوهَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَسْهِمْ لِي ، فَقَالَ : بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لَا تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ ، فَقَالَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ : وَاعَجَبًا لِوَبْرٍ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ يَنْعَى عَلَيَّ قَتْلَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ عَلَى يَدَيَّ ، وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ ، قَالَ : فَلَا أَدْرِي أَسْهَمَ لَهُ أَمْ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ " ، قَالَ سُفْيَانُ : وَحَدَّثَنِيهِ السَّعِيدِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ :السَّعِيدِيُّ هُوَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ .´ہم سے حمیدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عنبسہ بن سعید نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ` میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ٹھہرے ہوئے تھے اور خیبر فتح ہو چکا تھا ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرا بھی ( مال غنیمت میں ) حصہ لگائیے ۔ سعید بن العاص کے ایک لڑکے ( ابان بن سعید رضی اللہ عنہ ) نے کہا یا رسول اللہ ! ان کا حصہ نہ لگائیے ۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ یہ شخص تو ابن قوتل ( نعمان بن مالک رضی اللہ عنہ ) کا قاتل ہے ۔ ابان بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کتنی عجیب بات ہے کہ یہ جانور ( یعنی ابوہریرہ ابھی تو پہاڑ کی چوٹی سے بکریاں چراتے چراتے یہاں آ گیا ہے اور ایک مسلمان کے قتل کا مجھ پر الزام لگاتا ہے ۔ اس کو یہ خبر نہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے ( شہادت ) عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں سے ذلیل ہونے سے بچا لیا ( اگر اس وقت میں مارا جاتا ) تو دوزخی ہوتا ‘ عنبسہ نے بیان کیا کہ اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھی حصہ لگایا یا نہیں ۔ سفیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سعیدی نے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ سعیدی سے مراد عمرو بن یحییٰ بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کہتے ہیں انہوں نے اس دن یہ دعا کی تھی کہ یا اللہ! سورج ڈوبنے سے پہلے میں جنت کی سیر کروں‘ اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور وہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہی شہید ہوگئے۔
وبر عرب میں بلی سے چھوٹا ایک جانور جس کی دم اور کان چھوٹے ہوتے ہیں۔
قدوم اور ضان جو لفظ آیا ہے بعضوں نے کہا یہ ایک پہاڑ کا نام ہے جو قبیلہ دوس کے قریب تھا حضرت ابوہریرہ ؓ ادھر ہی کے باشندے تھے گویا ابان بن سعید نے حضرت ابوہریرہ ؓ پر یہ طعن کیا‘ ان کے پستہ قد ہونے کو وبر سے تشبیہ دی اور بکریوں کا گڈریا قرار دیتے ہوئے اپنے جرم کا اقرار بھی کیا مگر یہ کہ اس وقت وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے بعد میں اللہ نے دولت اسلام سے سرفراز کردیا۔
حافظ صاحب ؒ فرماتے ہیں: والمراد منه ھھنا قول أبان أکرمه اللہ علی یدي ولم بھنی علی یدیه و أراد بذالك أن النعمان استشھد بیر ابان فأکرمه اللہ بالشھادة ولم یقتل أبان علی کفرہ فیدخل النار وھو المراد بالإھانة بل عاش أبان حتی تاب و أسلم وکان إسلامه قبل خیبر بعد الحدبیة وقال ذالك الکلام بحضرة النبي صلی اللہ علیه وسلم وأقرہ علیه وموافق لما تضنمة للعرجمة (فتح الباري)
قول ابان سے یہاں مراد یہ کہ اللہ نے میرے ہاتھ پر ان کو عزت شہادت دی اور ان کے ہاتھوں سے قتل کرا کر مجھ کو ذلیل نہیں کیا‘ جس سے مراد لیا کہ نعمانؓ ابانؓ کے ہاتھ سے شہید ہوئے پس اللہ نے ان کا اکرام فرمایا اور ابان کفر پر نہیں مرا ورنہ دوزخ میں جاتا۔
اللہ نے ان کو حدیبیہ کے بعد اسلام نصیب فرمایا۔
ابان نے یہ باتیں آنحضرتﷺ کے سامنے بیان کیں آپؐ خاموش رہے‘ اس سے ترجمہ باب ثابت ہوا۔
آپؐ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کا حصہ نہیں لگایا۔
اس پر حافظ صاحب ؒ فرماتے ہیں واحتج به من قال إن من حضر بعد فراغ الوقعة ولو کان خرج مددا لھم أن لا بشارك من حضرھا وھو قول الجمھور (فتح الباري)
یعنی اس سے دلیل لی اس نے جس نے کہا کہ جو شخص جنگ ہونے کے بعد حاضر ہو اگرچہ وہ مدد کرنے کے ہی لئے آیا ہو‘ اس کو حاضر ہونے والوں کے ساتھ حصوں میں شریک نہیں کیا جائے گا۔
جمہور کا یہی قول ہے۔
1۔
ابن قوتل کا نام نعمان بن مالک ہے۔
وہ میدان اُحد میں ابان بن سعید کے ہاتھوں شہید ہوئے تھےانھوں نےمیدان اُحد میں دعا کی تھی اےاللہ! غروب آفتاب سے پہلے جنت کی سیر کرنا چاہتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازا اور سورج غروب ہونے پہلے ہی شہید ہو گئے ابان بن سعید اس وقت کافر تھے پھر غزوہ احد کے بعد حدیبیہ سے پہلے مسلمان ہو گئے۔
2۔
امام بخاری ؒنے اس سے ثابت کیا ہے کہ قاتل اور مقتول دونوں جنت کے حقدار ہو سکتے ہیں جیسا کہ مذکورہ واقعے سے ظاہر ہے۔
3۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر گناہ سے کوئی انسان توبہ کرلے تو پہلے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
پھر اسے اس گناہ کے باعث شرمندہ کرنا درست نہیں۔
واللہ أعلم۔
دوسری طرف اللہ تعالی کا یہ بھی فضل ہوا کہ کفر کی حالت میں ان کے ہاتھ سے مجھے قتل نہیں کروایا جو میری اخروی ذلت کا سبب بنتا اور اب میں مسلمان ہوں اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔
لہذا اب ایسی باتوں کا ذ کر نہ کرنا بہتر ہے۔
آنحضرت ﷺ حضرت ابان ؓ کے اس بیان کو سن کر خاموش ہو گئے۔
ابان بن سعید ؓ نے مکہ مکرمہ میں حضرت عثمان ؓ کو اپنے ہاں پناہ دی تھی جب وہ (حضرت عثمان ؓ)
صلح حدیبیہ کے وقت مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ کے نمائندے بن کر تشریف لائےتھے۔
ابان اس وقت کافر تھے اور صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہوئے ہیں۔
سعید بن عاص بیان کرتے ہیں کہ بدر میں میرا والد قتل ہوگیا تو میرے چچا ابان نے میری پرورش کی اور یہ رسول اللہ ﷺ کا سخت ترین دشمن تھا اور آپ کو گالیاں دیتا تھا۔
میرا چچا شام کے علاقے میں گیا، واپس آیا توآپ ﷺ کو گالیاں دینے سے رک گیا۔
اس کا سبب دریافت کیا گیا تو اس نے کہا کہ وہ شام میں ایک راہب سے ملا تھا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کی صفات سے مجھے آگاہ کیا، اس وقت سے ان کی صداقت ان کے دل میں بیٹھ گئی، چنانچہ تھوڑی یر بعد وہ مدینہ طیبہ آکر مسلمان ہوگئے۔
انھوں نے غزوہ اُحد میں نعمان بن قوقل کو شہید کیا تھا۔
اس حدیث میں حضرت ابان ؓ کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ اس ن ابن قوقل کو قتل کیا جبکہ وہ اس وقت کافر تھا اور حضرت نعمان بن قوقل مسلمان تھے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں میرے ہاتھوں مقام شہادت عطا فرمایا اور اگرنعمان ؓ اس وقت مجھے قتل کردیتے تو میں دونوں جہانوں میں ذلیل ورسوا ہوجاتا اور ہمیشہ جہنم کا ایندھن بن جاتا۔
دراصل حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابان ؓ دونوں نے ایک دوسرے پر اعتراض کیا اور رسول اللہ ﷺ سے کہا: اسے مال غنیمت سے حصہ نہ دیا جائے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کا موقف تھا کہ یہ ابن قوقل کا قاتل ہے، اس بنا پر اسے قطعاً مال غنیمت سے کوئی حصہ نہ دیا جائے جبکہ ابان ؓ کہتے تھے کہ ضان پہاڑی سے اتر کر ہماری تقسیم میں خلل انداز ہونے کی تمھیں کیاضرورت ہے۔
بہرحاہل رسول اللہ ﷺ نے مجاہدین سے مشورے کے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ کو اموال خیبر سے حصہ دیا لیکن ابان اوراس کے ساتھیوں کو کچھ نہ دیا۔
(فتح الباري: 615/7)